
علی گڑھ, 14 جنوری (ہ س)،
ممتاز صحافی اور شاعر جمال صابری کے مجموعہ کلام ”جمالیات“ کا رسم اجرا انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں سابق مرکزی وزیر اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سلمان خورشید اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرآئی اے ایس آفیسر خواجہ محمد شاہد کے ہاتھوں عمل میں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر معروف وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ جمال صابری کی شاعری کی اشاعت محض ایک کتاب کی رسمِ اجرا نہیں بلکہ اردو کے اس قیمتی ورثے کی بازیافت ہے جو وقت کی گرد میں اوجھل ہو چکا تھا۔ ’جمالیات‘ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کلاسیکی اردو شاعری کی روایت نہ صرف زندہ ہے بلکہ آج بھی فکری اور جمالیاتی سطح پر ہماری رہنمائی کر سکتی ہے۔ اس نادر ادبی سرمایے کو محفوظ کرنے اور نئی نسل تک پہنچانے کا کارنامہ کے لئے جمال صابری کے پسرزادہ ساجد رضاء مبارکباد کے مستحق ہیں۔سابق وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور سابق رجسٹرار، جامعہ ملیہ اسلامیہ خواجہ محمد شاہد نے کہا کہ جمال صابری ان شعرا میں شامل ہیں جنہوں نے روایت، تہذیب اور فکری گہرائی کو اپنی شاعری میں سمویا، مگر بدقسمتی سے ان کا کلام منظرِ عام پر نہ آ سکا۔ ’جمالیات‘ کی اشاعت اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ ہے، جو ہمیں علی گڑھ کے اس ادبی ماحول اور ان تخلیقی اذہان سے جوڑتی ہے جنہوں نے زبان و ادب کو وقار بخشا۔ یہ کتاب تحقیق، تدوین اور ادبی دیانت کی ایک روشن مثال ہے۔
مذکورہ تقریب میں معروف شاعر اور ساہتیہ اکادمی کے اُردو مشاورتی بورڈ کے کنوینر چندر بھان خیال نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ غورطلب ہے کہ جمالیات کومِہرِ عالم خان نے ترتیب دیا ہے، جب کہ اس کی اشاعت ریختہ فاؤنڈیشن نے کی ہے۔جس کو جمال صابری کے پسرزادے ساجد رضا خان نے نہایت محنت اور جاں فشانی سے بازیافت کیاانکی برسوں کی محنت نے منتشر قلمی نوٹس، ڈائریوں، اخباری تراشوں، نادر دستاویزات اور تصاویر سے اس مجموعے کا مسودہ تیار کیا، اوریوں ایک نازک مگر قیمتی ادبی ورثے کو محفوظ کیا گیا ہے۔مذکورہ کتاب کی رسمِ اجرا کے بعد علی گڑھ کے فراموش شدہ شعرا کے موضوع پر ایک پینل مذاکرہ بھی منعقد ہوا۔ جس میں پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر خالد محمود، پروفیسر فاروق بخشی، مِہرِ عالم خان اور محمد احمد شیون نے جمالؔ صابری کی شاعری پر اظہارِ خیال کیا اور متفقہ طور پر“جمالیات”کو اُردو ادب میں ایک اہم اور بروقت اضافہ قرار دیا۔
معروف براڈکاسٹر پرویز عالم نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور مسودے کے غیر معمولی سفر پر روشنی ڈالی۔یاد رہے کہ عابد رضا خاں کے نام سے 1899 میں علی گڑھ میں پیدا ہونے والے جمالؔ صابری ایک معزز ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے والد حسن رضا خاں پیشے سے وکیل تھے، جب کہ اُن کے بھائی حامد رضا خاں (تبسم نظامی) اور زاہد رضا خاں (کباب علی گڑھی) اپنے وقت کے معروف شعرا تھے۔ اس ادبی ماحول نے جمالؔ صابری کی زندگی کو تشکیل دیا، اور اُن کے ہزاروں اشعار نے نسلوں کو متاثر کیا، جن میں اُن کے بھانجے پدم بھوشن یافتہ ساغر نظامی بھی شامل ہیں۔سیمابؔ اکبرآبادی جیسے عظیم شاعر جو خود داغؔ دہلوی کے شاگرد تھے کی تربیت میں جمالؔ صابری نے ایک پختہ کلاسیکی ذوق حاصل کیا۔ اُن کی شاعری میں کلاسیکی موضوعات کی پوری کائنات جلوہ گر ہے۔جمالؔ صابری کی زندگی اپنے عہد کے نشیب و فراز کی آئینہ دار بھی تھی۔ وہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے حامی تھے اور عہدِ خلافت میں علی برادران سے وابستہ رہے۔ 1933 میں اہلیہ عابدہ خاتون نسرین کے انتقال کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے بمبئی چلے گئے، جہاں ابتدائی فلمی صنعت میں اسکرپٹ رائٹر، نغمہ نگار اور مدیر کے طور پر کام کیا۔ تاہم 1937 میں وہ مستقل طور پر علی گڑھ واپس آ گئے اور شاعری، ڈرامہ نگاری اور ہفت روزہ شباب کی ادارت میں مصروف ہو گئے، جو اُن کے اصلاحی وژن کا عکاس تھا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ