
علی گڑھ، 14 جنوری (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہء اسلامک اسٹڈیزکے زیرِ اہتمام ممتاز اسلامی اسکالر، مفکر اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے بانی و ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد منظور عالم کے سانحہ ارتحال پر ایک تعزیتی جلسہ پروفیسر این اکمل ایوبی کانفرنس ہال میں منعقد ہوا، جس میں اساتذہ، محققین، طلبہ اور علمی حلقوں سے وابستہ معزز شخصیات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
فیکلٹی آف آرٹس کے سابق ڈین پروفیسر کفیل احمد قاسمی نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کی سرپرستی میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز نے سینکڑوں معیاری علمی کتابیں شائع کیں اور اس کی خدمات کا اعتراف قومی و عالمی سطح پر ہوا۔ پروفیسر ابو سفیان اصلاحی نے سعودی عرب میں مرحوم کی خدمات اور بعد ازاں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے ذریعے علمی، تحقیقی اور سماجی میدان میں انجام دیے گئے ہمہ جہت کاموں کو ان کے وژن کا عملی مظہر قرار دیا۔پروفیسر اکبر حسین نے مرحوم کی غیر معمولی خاکساری اور بین المضامین تحقیق کی سرپرستی پر روشنی ڈالی۔
پروفیسر محمد طارق نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کے اٹھائے گئے فکری و سماجی ایشوز عالمی فورمز تک زیرِ بحث آئے، جو ان کی بصیرت اور دور اندیشی کا ثبوت ہے۔ پروفیسر عبدالمجید خاں نے ان کے ساتھ طویل علمی رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ معیارِ علم پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔شعبہ تاریخ کے پروفیسر نذیر نے مرحوم کو ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔”چلا گیا مگر اپنا نشان چھوڑ گیا،وہ شہر بھر کے لیے اپنی داستاں چھوڑ گیا“دیگر مقررین نے بھی مرحوم کی اصول پسندی، علمی دیانت، سماجی انصاف کے لیے جدوجہد اور نوجوان اہلِ علم کی سرپرستی کو سراہا۔ صدرِ شعبہ اسلامک اسٹڈیز پروفیسر آدم ملک خان نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم ایک صاحبِ بصیرت مفکر اور درد مند انسان تھے، جن کی علمی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے پروفیسر ضیاء الدین فلاحی نے کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم ایک ہمہ جہت فکری شخصیت تھے جنہوں نے علم، تحقیق اور ادارہ سازی کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ وہ نئی نسل کے مستقبل کے لیے فکری بنیادیں فراہم کرنے والے مفکر تھے اور ایک ایسا علمی و ادارہ جاتی ورثہ چھوڑ گئے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتا رہے گا۔ پروگرام کا اختتام شعبہ عربی کے چیئرمین پروفیسر فیضان بیگ کی دعا پر ہوا۔جبکہ مشتاق احمد کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہو جلسہ کا آغاز ہوا۔۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ