پھولوں کی وادی کی بلند چوٹیوں پر چار دن سے آگ کا قہر ، فوج کی مدد کے لیے حکومت کو لکھا گیا خط
دہرادون، 13 جنوری (ہ س)۔ اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں دنیا کی مشہور ''ویلی آف فلاورز'' کے بفر زون میں واقع اونچائی والے جنگلات میں گزشتہ چار دنوں سے آگ بھڑک رہی ہے۔ محکمہ جنگلات کی ٹیم نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن سخت جغرافیائی حالات اور ہڈی
پھولوں کی وادی کی بلند چوٹیوں پر چار دن سے آگ کا قہر ، فوج کی مدد کے لیے حکومت کو لکھا گیا خط


دہرادون، 13 جنوری (ہ س)۔

اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں دنیا کی مشہور 'ویلی آف فلاورز' کے بفر زون میں واقع اونچائی والے جنگلات میں گزشتہ چار دنوں سے آگ بھڑک رہی ہے۔ محکمہ جنگلات کی ٹیم نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن سخت جغرافیائی حالات اور ہڈیوں کو ٹھنڈا کرنے والی سردی کی وجہ سے اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔ ضلعی انتظامیہ نے حکومت کو خط لکھ کر آگ پر قابو پانے کے لیے فوج کی مدد طلب کی ہے۔

ضلع میں سطح سمندر سے تقریباً 3,500 میٹر کی بلندی پر واقع پلنا اور بھوندر گاو¿ں کے بالکل سامنے پہاڑیوں پر 9 جنوری سے آگ بھڑک رہی ہے۔ آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے فاریسٹ رینج آفیسر چیتنا کنڈپال کی قیادت میں 10 رکنی ٹیم کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا۔ محکمہ نے سب سے پہلے مہیلا منگل دل اور پلنا کے مقامی گاو¿ں کے دیگر گاو¿ں والوں سے تعاون کی اپیل کی، تاکہ آگ بجھانے کے لیے اجتماعی کوشش کی جا سکے۔ تاہم آگ کی جگہ انتہائی ناقابل رسائی اور پرخطر ہونے کی وجہ سے گاو¿ں والوں نے وہاں جانے سے عاجزی کا اظہار کیا۔

دیہاتیوں نے بتایا کہ ایسی کھڑی اور خطرناک پہاڑیوں کو عبور کرنے سے ان کی جان کو براہ راست خطرہ لاحق ہو گا۔ محکمانہ ٹیم نے نامساعد حالات کے باوجود آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور ڈنڈسال کے راستے لکشمن گنگا کو عبور کیا۔ تاہم، جیسے جیسے ٹیم اوپر کی طرف بڑھی، قدرتی چیلنجوں نے ان کا راستہ روک دیا۔ شدید سردی کی وجہ سے راستے میں موجود آبشاریں مکمل طور پر جم چکی تھیں، جو پتھروں پر برف کی چادر بن کر پھسلن میں اضافہ کر رہی تھیں۔ پہاڑیوں کی کھڑی اور عمودی ڈھلوانوں کی وجہ سے ٹیم 2 کلومیٹر سے آگے نہیں بڑھ سکی اور حفاظتی وجوہات کی بنا پر اسے واپس جانا پڑا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande