اہم شعبوں میں اجارہ داری ملک کے لیے خطرہ: راج ٹھاکرے
پونے، 13 جنوری (ہ س) ۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے صنعت کار گوتم اڈانی کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے مرکزی حکومت کی کھلی حمایت کارفرما ہے، جو ملک کے لیے خطرناک اجارہ داری کو جنم دے رہی ہے۔ایک پر
Politics Maha Taj Thackeray on Adani


پونے، 13 جنوری (ہ س) ۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے صنعت کار گوتم اڈانی کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے مرکزی حکومت کی کھلی حمایت کارفرما ہے، جو ملک کے لیے خطرناک اجارہ داری کو جنم دے رہی ہے۔ایک پریس کانفرنس میں راج ٹھاکرے نے کہا کہ نوی ممبئی کے علاوہ ملک میں کوئی بھی ہوائی اڈہ ایسا نہیں جسے اڈانی نے مکمل طور پر از خود ترقی دی ہو۔ اس کے باوجود ہوائی اڈوں پر کنٹرول کس طرح حاصل کیا گیا، اس پر عوام کو غور کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سیمنٹ جیسے شعبے میں، جہاں اڈانی کا پہلے کوئی وجود نہیں تھا، آج وہ دوسرے نمبر پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ ترقی اپنی محنت سے نہیں بلکہ دوسروں کے کاروبار سنبھال کر حاصل کی گئی ہے۔ راج ٹھاکرے کے مطابق یہ سوال صرف حکومت نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے اہم ہے، اور دیویندر فڑنویس کو بھی اس کا جواب دینا چاہیے۔انہوں نے ٹاٹا اور امبانی گروپس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان صنعتی گھرانوں نے اپنی بنیاد خود رکھی، جبکہ اڈانی گروپ نے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، سیمنٹ اور بجلی جیسے شعبوں میں اجارہ داری قائم کر لی ہے۔راج ٹھاکرے نے متنبہ کیا کہ جب اہم قومی شعبے ایک ہی کارپوریٹ گروپ کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں تو کسی ایک تکنیکی یا انتظامی خرابی سے پورا ملک مفلوج ہو سکتا ہے۔ انہوں نے حالیہ انڈیگو ایئر لائنز کے تعطل کو اس کی مثال قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں ملک کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اڈانی کے اس عروج میں نریندر مودی کی حکومت کا کردار کلیدی رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande