
پونے ، 13 جنوری (ہ س)۔ ریاست مہاراشٹر میں حالیہ میونسپل کارپوریشن انتخابات کے دوران اجیت پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور شرد چندر پوار دھڑے کے درمیان بعض مقامات پر انتخابی اتحاد کے بعد دونوں جماعتوں کے ممکنہ دوبارہ قریب آنے یا انضمام سے متعلق سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے کہا کہ ایسے کسی بھی فیصلے پر مناسب وقت آنے پر غور کیا جائے گا اور اس وقت دونوں پارٹیوں کے اتحاد یا انضمام پر کوئی سنجیدہ بات چیت جاری نہیں ہے۔اجیت پوار نے صحافیوں کو بتایا کہ میونسپل انتخابات کے بعد ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات منعقد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ شہری اداروں میں دونوں این سی پی دھڑوں کے درمیان تعاون کے بعد عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا آنے والے انتخابات میں بھی دونوں جماعتیں ایک ساتھ نظر آئیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے سپریا سولے اور شرد چندر پوار گروپ کے ریاستی صدر ششی کانت شندے سے ابتدائی سطح پر تبادلۂ خیال ہوا ہے، جس کا جواب حوصلہ افزا رہا، مگر ابھی کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔پمپری چنچوڑ میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی لیڈروں پر لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کے جواب میں جب بی جے پی نے انتخابی مہم کے دوران اجیت پوار کے خلاف مبینہ 75 ہزار کروڑ روپے کے آبپاشی گھوٹالے کا معاملہ دوبارہ اٹھایا تو اجیت پوار نے کہا کہ وہ اس موضوع پر ریاستی اور مرکزی سطح کے سینئر رہنماؤں سے بات کر چکے ہیں اور اب اس معاملے پر مزید وضاحت دینا ضروری نہیں سمجھتے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت میں شامل ہونے کے باوجود انہوں نے سیکولرزم اور شیواجی، شاہو، مہاتما پھولے اور ڈاکٹر امبیڈکر کے نظریات سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ اجیت پوار نے کہا کہ آئین ہر شہری کو آزادی فراہم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے لیے سخت سزا، حتیٰ کہ سزائے موت سے متعلق قانون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے