
پونے، 13 جنوری (ہ س) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے خلاف ونایک دامودر ساورکر سے متعلق بیان کے سبب دائر ہتکِ عزت مقدمے میں عدالتی کارروائی پر قانونی اعتراض سامنے آئے ہیں۔ راہل گاندھی کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ ملند دتاتریہ پوار نے پونے کی ایم پی/ایم ایل اے فرسٹ کلاس خصوصی عدالت میں تحریری اعتراض داخل کیا۔
دفاع کا کہنا ہے کہ مدعی کے بیان کی ریکارڈنگ کے دوران عدالتی طریقۂ کار میں سنگین خامیاں پائی گئیں۔ مدعی ستیاکی ساورکر نے چیف ایگزامینیشن مکمل کیا، تاہم دفاع کے مطابق شہادت کے دوران اختیار کیا گیا عمل قانونی تقاضوں کے منافی تھا۔
درخواست کے مطابق گواہی کے دوران بغیر پیشگی اطلاع دو پین ڈرائیوز اور بعض دستاویزات عدالت میں پیش کی گئیں، حالانکہ یہ نہ تو اصل شکایت کا حصہ تھیں اور نہ ہی پہلے کبھی عدالت میں جمع کرائی گئی تھیں۔ دفاع نے اس عمل کو قانوناً ناجائز قرار دیا۔
دفاعی مؤقف میں کہا گیا کہ شہادت کے مرحلے پر نئے شواہد شامل کرنا استغاثہ کو اپنے مقدمے کی کمزوریوں کو دور کرنے کا موقع دینا ہے، جو ملزم کے منصفانہ ٹرائل کے حق کے منافی ہے اور طے شدہ عدالتی اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ کارروائی کے دوران مدعی کی جانب سے عدالت پر سنگین الزامات عائد کیے گئے، اس کے باوجود دفاعی اعتراضات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے گواہی قلم بند کی گئی، جو کہ غلط عدالتی احکامات کا نتیجہ ہے۔
ایڈووکیٹ پوار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کے شواہد قبول کرنے کے لیے نہ کوئی رضامندی دی گئی اور نہ ہی کسی قانونی حق سے دستبرداری اختیار کی گئی۔ انہوں نے آئین ہند کے آرٹیکل 21 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منصفانہ سماعت بنیادی حق ہے، جس کی اس مقدمے میں پامالی ہوئی ہے۔
عدالت نے تحریری اعتراضات کے بعد معاملہ مزید جرح کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 6 فروری 2026 کو ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے