
کشی نگر، یکم جنوری (ہ س)۔ اترپردیش کے کشی نگر ضلع کے کسیہ تھانہ علاقے میں کچھ نوجوانوں کے ذریعہ ایک نوجوان کو چاقو مارکر ہلاک کئے جانے سے پورے ضلع میں غم و غصے کی لہر ہے۔ لاش ملنے کے بعد مشتعل لواحقین نے سینکڑوں لوگوں کے ساتھ لاش سڑک پر رکھ کر سڑک جارم کردی۔ مشتعل لوگ ملزم نوجوانوں کے گھروں کے خلاف بلڈوزر کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جائے وقوعہ پر ایک درجن تھانوں کی فورسز بھی تعینات ہیں اور افسران صورتحال کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کسا تھانہ علاقے کے تحت جڑوانیا گاؤں میں نوشاد نامی نوجوان نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر نشانت عرف شکتی مان سنگھ پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ شدید زخمی نشانت نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔ اس واقعہ سے مشتعل ہو کر اہل خانہ اور مقامی باشندوں نے نیکا چھپرا چوراہے پر سڑک بلاک کر دی۔ مظاہرین نے انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ملزم کے گھر پر بلڈوزر لگانے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے باعث مین روڈ پر ٹریفک مکمل طور پر درہم برہم ہوگئی۔
اطلاع ملتے ہی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جائے وقوعہ پر پہنچے اور حالات پر قابو پانے کے لیے ایک درجن تھانوں سے پولیس فورس تعینات کی۔ اہلکار خاندان کے افراد سے مسلسل بات کر رہے ہیں اور انہیں راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ بلڈوزر کارروائی کے اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔ ادھر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس معاملے میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال، پولیس کی بھاری نفری علاقے میں موجود ہے اور لواحقین کا احتجاج جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد