تحریک اوقاف نے وقف ترمیمی بل کے خلاف شروع کی کل ہندتحریک
نئی دہلی، 4اپریل (ہ س)۔ تحریک اوقاف نے وقف ترمیمی بل کے خلاف کل ہند آندولن کا آغاز کردیا ہے۔تحریک اوقاف کے قومی صدر شبیر احمد انصاری نے آج دہلی ،نانڈیر سمیت ملک کے کئی شہروں میں بیک وقت احتجاج شروع کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ”وقف ترمیمی بل 2025 کی شدید م
تحریک اوقاف نے وقف ترمیمی بل کے خلاف شروع کی کل ہندتحریک


نئی دہلی، 4اپریل (ہ س)۔

تحریک اوقاف نے وقف ترمیمی بل کے خلاف کل ہند آندولن کا آغاز کردیا ہے۔تحریک اوقاف کے قومی صدر شبیر احمد انصاری نے آج دہلی ،نانڈیر سمیت ملک کے کئی شہروں میں بیک وقت احتجاج شروع کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ”وقف ترمیمی بل 2025 کی شدید مخالفت کے باوجود لوک سبھا سے منظور کیا جانا، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق پر کھلا حملہ ہے“ انہوں نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہمرکزی حکومت کا یہ فیصلہ انتہائی قابل مذمت اور بد نیتی پر مبنی ہے۔ پچہتربرسوں سے ہم اپنے اوپر ہونے والے ظلم اور نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں اور قانون و عدلیہ پر بھروسہ کرتے رہے ہیں لیکن افسوس کہ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔مسلمانوں کے خلاف ایک منظم اور بہت بڑی سازش کی جارہی ہے۔سمر قند اور بخارا کی تاریخ کوہندوستان میں دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔جہاں مسجد سے لے کر نمازی تک پر ٹیکس عائد کردیا گیا تھا اور نتیجہ کے طور پر مسلمان اپنے اپنے گھروں میں چھپ کر نماز پڑھنے پر مجبور ہوئے تھے اور مسجدوں کو اسطبل اور گوداموں میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

آزاد ہندوستان میں اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت مسلمانوں کو بے یارومددگار کردینا چاہتی ہے۔یہ سراسر ناانصافی اور جمہوریت کیخلاف ہے۔یہ مسلمانوں کو کسی بھی صورت قبول نہیں ہے۔یہ بل امتیاز اور مذہبی تفریق کی بدترین مثال ہے، اس بل کے ذریعے مسلمانوں کو اوقاف کا انتظام کرنے کے مذہبی و دستوری حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ دیگر مذہبی طبقات کو اپنے مذہبی مقامات کے مکمل انتظام و انصرام کا حق حاصل ہے۔ اس ترمیم کے نتیجے میں وقف املاک کے انتظام میں سرکاری مداخلت بہت زیادہ بڑھ جائے گی جوکہ آئین کی دفعہ 26 کے خلاف ہے جس میں مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے حق کی ضمانت دی گئی ہے“۔

تحریک اوقاف کے کل ہند صدر شبیر احمد انصاری نے کہا کہ وقف جائیدادیں مذہبی اوقاف ہیں، ریاستی اثاثہ نہیں۔ پارلیمانی بحث کے دوران پیش کیے گئے گمراہ کن دلائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی نوعیت چیریٹی کمشنر کی طرح نہیں ہے جیسا کہ لوک سبھا کے بعض ارکان کے ذریعے دعویٰ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ متعدد ریاستوں میں ہندو اور سکھ اوقاف کے لیے خصوصی قوانین موجود ہیں۔ ”وقف بورڈ کی ساخت میں جبراً تبدیلی کرکے اس کے اراکین میں غیر مسلم افرادکو شامل کرنے کا فیصلہ، دراصل مسلم کمیونٹی سے ان کے مذہبی و فلاحی اثاثوں کا انتظامی حق چھیننے کے ارادے سے کیا گیا ہے۔ یہ ایکٹ سرکاری حکام کلکٹرکو وقف معاملوں میں مداخلت کرنے کا حق دیتا ہے، جس سے انتظامیہ کے لیے من مانے ڈھنگ سے وقف جائیدادوں پر قبضہ کرنے کا راستہ آسان ہوجائے گا۔ جو کہ اوقاف کے وجود کے لیے خطرے کا باعث بنے گا۔ اس ترمیم کی وجہ سے سرکار، وقف جائیدادوں پر قبضہ کر سکتی ہے۔ جس کی زد میں متعدد عبادت گاہیں، اسکول، کالج اور قبرستان آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل آئین کی دفعہ 14، 25، 26 اور 29 کے سراسر خلاف ہے۔ ہم نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مسلم تنظیموں کے ساتھ مل کر اس جابرانہ قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کردیا ہے۔جس کی شروعات نانڈیر سمیت ملک کی متعدد شہروں سے ہوچکی ہے۔اس احتجاج میں آج مختلف دینی ،سیاسی اور سماجی رہ نما?ں نے شرکت کی جس میں کانگریس کے عبدالستار ،بی آر ایس لیڈر معین ،جمعیة العلماءضلع صدر مولانا ایوب قاسمی،رفیق شاعتی اور ایڈوکیٹ اریب الدین نانڈیر ضلع صدر تحریک اوقاف فاروق احمد،این سی پی کے عبدالروف جمندار سمیت ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande