ذلت و رسوائی کے بعد کرسی پر بنے رہنا بے شرمی ہے :اشفاق رحمن
امارت کے وقار کےلئے آگے آئیں عوام:الحمدپٹنہ03مارچ(پی این ایس)۔الحمد کے سرپرست اشفاق رحمن کا کہنا ہے کہ امیر شریعت کی لڑائی میں امارت شرعیہ کا وقار داؤ پر لگ گیا ہے ۔امیر شریعت بنے رہنے اور بننے کے لئے مارا ماری انتہائ شرمناک ہے ۔اتنا ذلیل و رس
ذلیل و رسوا کے بعد کرسی پر بنے رہنا بے شرمی ہے :اشفاق رحمن


امارت کے وقار کےلئے آگے آئیں عوام:الحمدپٹنہ03مارچ(پی این ایس)۔الحمد کے سرپرست اشفاق رحمن کا کہنا ہے کہ امیر شریعت کی لڑائی میں امارت شرعیہ کا وقار داؤ پر لگ گیا ہے ۔امیر شریعت بنے رہنے اور بننے کے لئے مارا ماری انتہائ شرمناک ہے ۔اتنا ذلیل و رسوائی کے بعد کوئی محلہ کی مسجد کا امام یا موذن نہ بنے لیکن امیر شریعت کی کرسی پر لوگ بڑی بے شرعی سے براجمان ہیں ۔یہ ادارہ کے تئیں عقیدت نہیں بلکہ کرسی سے محبت کا اظہار ہے ۔اشفاق رحمن کا کہنا ہے کہ یہ لڑائ صرف بیت المال پر قبضہ اور بے جا استعمال کی ہے ۔تاکہ نجی مفاد میں اپنی شخصیت کو بلند کر سکے ۔جبکہ ان کی عوامی سطح پر اپنی کوئی پہچان نہیں ہے ۔امیر شریعت کے عہدہ کے لئے کوئی تنخواہ نہیں ہے پھر کرسی سے اتنی محبت کیوں ؟یہ لوگ امارت کے نام پر اپنی شخصیت پرستی عوامی سطح پر بلند کرنا چاہتے ہیں ۔ بیت المال پر کس کا اختیار ہوگا اسی کے لئے دھینگا مشتی چل رہی ہے۔پولس بلائی جا رہی ہے-امارت میں پولس کوئ پہلی بار نہیں آئی۔مولانا ولی رحمانی کے زمانے میں بھی امارت شرعیہ پولس چھاؤنی میں تبدیل ہو گئی تھی۔اب ان کے بیٹے احمد فیصل رحمانی کے دور امیر شریعت میں پولس امارت میں داخل ہوئی ہے۔ دونوں گروپ نا قابل قبول ہے ۔دونوں میں خود غرضی پنہاں ہے۔ذاتی مفاد کی لڑائ ہے۔عوام الناس کو سوچنا ہوگا کہ ایسے ادارہ میں خیرات ،فطرہ ،زکات دینا جائز ہے جہاں لوٹ مچی ہوئی ہے۔شخصیت پرستی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے ۔جبکہ اسلام میں شخصیت پرستی کے لئے کوئ جگہ نہیں ہے۔شخصیت پرستی شرک کی طرف لے جاتا ہے۔

اشفاق رحمن کا کہنا ہے کہ امام ہو یا امیر اگر انگلی اٹھ جاتی ہے تو انہیں بلا تاخیر عہدہ سے دستبردار ہو جانا چاہئے ۔عوام کو دور سے تماشہ دیکھنے کی بجائے آگے آکر اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے ۔ملکی حالات ابھی اچھے نہیں ہیں ۔لڑنا وقف کی حفاظت کے لئے ہے مگر علما سو آپس میں لڑنے سے باز نہیں آ رہے -یہ وقت کرسی لوٹنے یا کرسی بچانے کا ہے؟اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔اشفاق رحمن کا کہنا ہے کہ امارت شرعیہ مورثی جائداد نہیں ہے اور نہ کسی کے باپ کی جاگیر ہے ۔یہ قوم کا اثاثہ ہے۔اور اس کی حفاظت کرنا ملت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو لیڈر شپ کو مار کر رکھ دیا ہے ۔سیاسی رہبر بھی یہی رہیں گے اور مذہبی پیشوا بھی یہی بنے رہیں گے۔مسلم سماج کو سیاسی رہبر اور مذہبی پیشوا دونوں کو الگ کرنا پڑے گا اسی میں ملت کی بھلائی ہے۔آج ہندستانی مسلمانوں کی حالت کے لئے علما سو ہی ذمہ دار ہے۔ اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ جب تک اپنی قیادت نہیں ہوگی ،مسلمان پیٹتے اور پیٹاتے رہیں گے ۔افسوسناک المیہ ہے ایک امارت میں دو -دو ناظم اور دو -دو امیر شریعت ہیں ۔شورئ ،ارباب حل و عقد ٹرسٹی تو بے مطلب کا ہے جب ان کا کوئی رول ہی نہیں ہے تو اس کے رہنے اور نہیں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ملت تو بیچاری ہے ۔لیکن اب اور تماشہ امارت کو کھنڈر میں بدل دے گا ۔سبھی کو مل کر اس میں دخل دینا چاہئے اور دونوں گروپ کو ہٹا دینا چاہئے ۔کرسی کی چاہت رکھنے والے کو عہدہ پر ایک منٹ برداشت نہیں کرنا چاہئے ۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande