حیدرآباد، 25 مارچ (ہ س)۔ تلنگانہ اسمبلی میں آج اسکولی، اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم، کھیل، یوتھ سروسس، عمارات وشوارع، آبکاری، سیاحت، ثقافتی امور، جنگلات، اور اوقاف کے بجٹ پر بحث کی گئی۔ وزیرعمارات وشوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے بتایا کہ حیدرآباد کے باہر شروع کیے گئے ٹرپل آر پراجکٹ کے لیے اراضی کے حصول کا 88 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے،جبکہ باقی کام جاری ہے۔ بحث کے دوران، جب بی آر ایس کے رکن ویمولا پرشانت ریڈی بات کر رہے تھے، تو وزیرموصوف نے مداخلت کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مرکزی حکومت نے ہائی وے کو 161 اے اے نمبر کے ساتھ منظور کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دو ماہ میں باقی کاموں کے لیے ضروری اجازت حاصل ہوجائیں گی۔انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلی حکومت نے انتخابات سے پہلے آؤٹر رنگ روڈ فروخت کر دی تھی اور بی آر ایس کو اب ٹرپل آر پراجکٹ کی پیش رفت پرسوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں۔قبل ازیں، بی آر ایس رکن پرشانت ریڈی نے کہاکہ پچھلی حکومت نے 10 سال میں سڑکوں اورعمارتوں کے شعبہ پر صرف 4,000 کروڑ روپے خرچ کیے تھے جس سے عوام کو گمراہ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی شاہراہوں اور عمارتوں کے لیے گزشتہ حکومت نے 32,800 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی تجویز کردہ ہام پالیسی کے تحت سڑکوں کی تعمیر پر ماضی کے مقابلے میں زیادہ اخراجات آئیں گے اور اس وجہ سے بی آر ایس اس طریقہ کار کی مخالفت کرتی ہے۔انہوں نے اعتراض کیا کہ بجٹ میں 17,000 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کا ہدف رکھا گیا ہے، لیکن حکومت کو اسے مکمل کرنے میں کم از کم تین سال لگیں گے، جبکہ بجٹ میں اس کے لیے مناسب فنڈز مختص نہیں کیے گئے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اضلاع کے مستقروں کو تحصیلوں سے جوڑنے والے توسیعی منصوبے ہام ماڈل پر نہ کیے جائیں۔۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق