
نیویارک،02دسمبر(ہ س)۔بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے صدر اور اہم یورپی ارکان نے عدالت کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف امریکی پابندیوں کے پیشِ نظر پیر کو ٹریبونل کی خود مختاری کا بےباکانہ اور مزاحمتی اعلان جاری کیا۔ایک سالانہ اجلاس میں آئی سی سی کے رکن ممالک کے نمائندگان مجتمع ہوئے جس کا آغاز کرتے ہوئے توموکو اکانے نے کہا: میں واضح کر دوں۔ ہم کبھی کسی کی طرف سے کسی قسم کا دباو¿ قبول نہیں کرتے۔جاپانی قانون دان نے مزید کہا، ہماری آزادی اور غیر جانبداری ہمارے رہنما اصول ہیں اور ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ ہماری وفاداریاں صرف روم کے قانون (جو آئی سی سی کی بنیاد ہے اور اس کے اختیارات کا تعین کرتا ہے) اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ ہیں۔آئی سی سی جو جنگی جرائم اور خلافِ انسانیت جرائم کے لیے افراد پر مقدمہ چلاتی ہے، اپنی 23 سالہ تاریخ کے مشکل ترین دور سے گذر رہی ہے۔
غزہ جنگ کے سلسلے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ برہم ہو گئے اور انہوں نے ججز اور پراسیکیوٹرز سمیت عدالت کے اہم اہلکاروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔امریکہ اور اسرائیل دونوں ہی آئی سی سی کے رکن نہیں ہیں۔ لیکن 2021 میں عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ اس کا دائرہ اختیار غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی یروشلم تک پھیلا ہوا ہے۔فی الوقت 125 ممالک عدالت کے فریق ہیں جن میں اقوامِ متحدہ کے دو تہائی رکن ممالک ہیں۔ جن دیگر ممالک نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا، ان میں چین، روس، شمالی کوریا، لیبیا اور سعودی عرب شامل ہیں۔ہنگری سمیت آئی سی سی کے چار رکن ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ عدالت کی رکنیت سے دستبردار ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔دوسری جانب فرانس کے وزیرِ انصاف جیرالڈ درمانین نے عدالت سے اپنے ملک کی غیر متزلزل وابستگی کا اظہار کیا۔درمانین نے کہا، ججز اور پراسیکیوٹرز بشمول ایک فرانسیسی مجسٹریٹ کے خلاف جو جابرانہ اقدامات کیے گئے ہیں، عدالت کو ان کے باعث ایک غیر معمولی سخت دور کا سامنا ہے۔ یہ اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔یورپی یونین کی جانب سے بات کرتے ہوئے ڈنمارک کی نمائندہ ایلسبتھ سونڈرگارڈ کرون نے کہا، بلاک عدالت کے خلاف دھمکیوں اور پابندیوں کے باوجود عدالت کے دفاع میں مضبوطی سے کھڑا ہے۔یاد رہے کہ عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان معمول سے زیادہ طویل رخصت پر ہیں جبکہ ان کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں مگر وہ ان کی تردید کرتے ہیں۔ اس وجہ سے آئی سی سی کو درپیش چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan