
نئی دہلی، 2 دسمبر (ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے دہلی میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے مطالبہ کے ساتھ انڈیا گیٹ کے احتجاج کے سلسلے میں گرفتار آٹھ ملزمان کو ضمانت دے دی ہے، جبکہ سات دیگر کی درخواست ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ عدالت ساتوں ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ 4 دسمبر کو سنائے گی۔ عدالت نے اس سے قبل 28 نومبر کو نو ملزمان کو ضمانت دی تھی۔ عدالت نے ان تمام کی ضمانت بیس بیس ہزار روپے کے مچلکوں پر منظور کر لی۔ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزم کا کسی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور پولیس کے الزامات گمراہ کن اور جھوٹے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ نعرے حکومت کے خلاف ہو سکتے ہیں لیکن یہ نظر بندی کی بنیاد نہیں ہو سکتے۔
دہلی پولیس نے انڈیا گیٹ پر مظاہرے کے سلسلے میں 17 افراد کو گرفتار کیا، جب کہ ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر چھ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق ان ملزمان نے فضائی آلودگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دس پولیس اہلکاروں پر کالی مرچ کا اسپرے کیا تھا۔ پولس ان ملزمین کے نکسلائٹس سے روابط کی جانچ کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ان مظاہرین نے نکسلیوں کی حمایت میں نعرے لگائے۔ پولیس کے مطابق، ان مظاہرین نے ماو¿نواز کمانڈر مادوی ہڈما کی حمایت میں نعرے لگائے، جو 76 سی آر پی ایف جوانوں کی ہلاکت کا ذمہ دار تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق، کچھ مظاہرین نے 9 نومبر کو مان سنگھ روڈ کو بلاک کر دیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
دہلی پولیس کے مطابق ریڈیکل اسٹوڈنٹ یونین ایک کالعدم تنظیم ہے۔ ملزم نے سوشل میڈیا پر تنظیم کی تعریف کی تھی۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کا تعلق دہلی یونیورسٹی سے تھا اور وہ بھگت سنگھ اسٹوڈنٹ یونٹی فورم اور ہمبھنڈ تنظیم سے وابستہ تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan