
نئی دہلی، 3 اکتوبر (ہ س)۔
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے جمعہ کو کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب عالمی معیشت ساختی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، ہندوستان کی بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت مضبوط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو نہ صرف عالمی غیر یقینی صورتحال بلکہ تجارت اور توانائی کے عدم توازن سے بھی نمٹنا چاہیے۔ وزیر خزانہ نے یہ بیان یہاں کوٹلیہ اکنامک کنکلیو 2025 سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناو¿ کے درمیان ٹیرف عالمی معیشت کو نئی شکل دے رہے ہیں، جب کہ ہندوستان 8% مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) نمو حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو ہندوستان میں مواقع نظر آنے لگے ہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے حکومت کا عزم برقرار ہے۔ ہندوستان میں پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری کے مواقع ابھر رہے ہیں، خاص طور پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) منصوبوں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف تک پہنچنے کے لیے، ہمیں 8 فیصد جی ڈی پی کی شرح نمو حاصل کرنا ہوگی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ 2047 تک خود انحصاری کے ذریعے ترقی یافتہ ہندوستان بننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ایک بند معیشت بننا چاہتے ہیں۔ ہم بے مثال عالمی عدم استحکام کے دور میں ہیں۔ تاہم، ہندوستان کے پاس بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی مضبوط صلاحیت ہے۔ سیتا رمن نے کہا کہ 2047 تک ترقی یافتہ معیشت بننے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ہندوستان کو 8 فیصد شرح نمو برقرار رکھنی ہوگی۔ اس موقع پر این کے سنگھ، 15ویں مالیاتی کمیشن کے چیئرمین، ماری ایلکا پنگیسٹو، بین الاقوامی تجارت اور کثیر جہتی تعاون کے لیے انڈونیشیا کے صدر کے خصوصی مشیر اور لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کے صدر اور وائس چانسلر لیری کریمر موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ