
خواتین کے لیے مختص فنڈ؛ واضح کافی اور قابل نگرانی ہونا چاہیے: ڈاکٹر نیلم گورہے
فریدآباد، 8 ستمبر (ہ س) خواتین کے لیے کتنی رقم دستیاب ہوئی، اس میں سے کتنی رقم حقیقت میں خرچ کی گئی اور اس خرچ سے خواتین کی زندگی میں کیا ٹھوس تبدیلی آئی، یہ سب واضح طور پر نظر آنا چاہیے۔ خواتین کے لیے مختص فنڈ واضح، کافی اور ایسا ہونا چاہیے جس کے استعمال اور نتائج کا باقاعدہ جائزہ لیا جاسکے۔ یہ بات شیوسینا کی رہنما، مہاراشٹر قانون ساز کونسل کی رکن اور استری آدھار کیندر کی صدر ڈاکٹر نیلم گورہے نے کہی۔
قومی خواتین کمیشن کی صدر وجیا رہاتکر کی پہل پر منعقدہ خواتین عوامی نمائندوں کی قومی صلاحیت سازی کانفرنس میں ڈاکٹر گورہے نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے صنفی حساس حکمرانی اور صنفی بجٹ سازی کے موضوع پر تفصیلی پیشکش کی۔ اس موقع پر مختلف ریاستوں کی خواتین ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسل کی ارکان موجود تھیں۔
کارگاہ کا افتتاح لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کیا۔ قومی خواتین کمیشن کی صدر وجیا کے رہاتکر اور رکن سکریٹری سدھیپ جین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ تکنیکی اجلاس میں مدھیہ پردیش کی شہری ترقی اور مکانات کی تعمیر کی وزیر مملکت پرتیما باگری اور اتر پردیش کی ڈیری ترقی کی وزیر مملکت کرشنا پاسوان نے بھی شرکت کی۔ کارگاہ میں مہاراشٹر کی خواتین ارکان اسمبلی چترا واگھ، منیشا چودھری، اوما کھاپرے، سلبھا گائیکواڑ، انورادھا چوہان، سیما ہیرے اور پرگیہ ساتو کے علاوہ مختلف ریاستوں کی خواتین عوامی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
قومی خواتین کمیشن اور وجیا رہاتکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر گورہے نے کہا کہ ایک خاتون کے طور پر انتخاب لڑ کر قانون ساز ادارے تک پہنچنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ تاہم منتخب ہونے کے بعد بھی خواتین کو سیاسی، سماجی اور انتظامی سطح پر کئی طرح کے تعصبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے خواتین عوامی نمائندوں کو اپنی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد رکھتے ہوئے فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر طریقے سے حصہ لینا چاہیے۔
قانون ساز کونسل میں اپنے ابتدائی دور کا تجربہ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر گورہے نے بتایا کہ وہ 2002 میں پہلی مرتبہ قانون ساز کونسل کی رکن بنی تھیں۔ اس وقت ایک بزرگ شخص نے انہیں بجٹ پر ہونے والی بحث میں حصہ لینے کے بجائے صرف خواتین اور بچوں کی ترقی کے محکمے سے متعلق موضوع پر بات کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس مشورے کے پیچھے یہ تعصب موجود تھا کہ ایک خاتون بجٹ کو نہیں سمجھ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقام سے شروع ہونے والا سفر آج صنفی حساس بجٹ سازی تک پہنچا ہے۔
ڈاکٹر گورہے نے واضح کیا کہ صنف کا مطلب صرف خواتین نہیں ہے بلکہ اس میں وہ کردار، توقعات اور ذمہ داریاں بھی شامل ہیں جو معاشرہ خواتین اور مردوں پر عائد کرتا ہے۔ ایک ہی عوامی پالیسی کا خواتین اور مردوں پر مختلف اثر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ، پل یا عوامی نقل و حمل کا نظام بناتے وقت صرف سفر کی رفتار کو مدنظر رکھنا کافی نہیں ہے۔ خواتین کے لیے صاف ستھرے بیت الخلا، محفوظ بس اسٹاپ، مناسب روشنی، قابل برداشت کرایے والی ٹرانسپورٹ اور محفوظ عوامی مقامات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔
پونے اور اورنگ آباد میونسپل کارپوریشنوں کے ساتھ کیے گئے کام کا تجربہ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر گورہے نے کہا کہ خواتین نے میونسپل کارپوریشن کے اسپتال شام کے وقت بھی کھلے رکھنے، اسکولوں کے اوقات کے مطابق بس سروس دستیاب کرانے اور سبزی و مچھلی بازاروں میں صفائی اور بیت الخلا کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ خواتین کے حقیقی تجربات سے سامنے آنے والی ایسی ضروریات کو بجٹ کی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ہی صنفی حساس حکمرانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنفی بجٹ سازی کا مطلب خواتین کے لیے الگ بجٹ بنانا یا فنڈ کو عمومی طور پر 50 اور 50 فیصد میں تقسیم کرنا نہیں ہے۔ اس عمل میں موجودہ بجٹ میں کی گئی مالی دفعات کا خواتین اور مردوں پر ہونے والے مختلف اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے، سہولیات تک غیر مساوی رسائی اور ذمہ داریوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے منصوبوں میں ضروری تبدیلی کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر گورہے نے بتایا کہ بھارت کے 2026 سے 2027 کے صنفی بجٹ بیان میں خواتین کے لیے 5.01 لاکھ کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، جو مرکزی بجٹ کا تقریباً 9.37 فیصد ہے۔ اس بیان میں 100 فیصد خواتین پر مرکوز منصوبوں کو پہلے حصے میں، خواتین کے لیے 30 سے 99 فیصد تک مالی گنجائش رکھنے والے منصوبوں کو دوسرے حصے میں اور 30 فیصد سے کم خواتین پر مرکوز مالی گنجائش رکھنے والے منصوبوں کو تیسرے حصے میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈ میں اضافہ اہم ضرور ہے، لیکن صرف رقم مختص کردینا خواتین کو بااختیار بنانے کے مترادف نہیں ہے۔ فنڈ کی تقسیم، حقیقی اخراجات، فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار اور ان سے حاصل ہونے والے نتائج کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔
ڈاکٹر گورہے نے خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کے معاہدے، آسٹریلیا میں 1984 کے صنفی بجٹ سازی کے تجربے، 1995 کی بیجنگ کانفرنس، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بیجنگ لائحہ عمل اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 5 کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معاہدوں، قومی پالیسیوں اور مقامی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کے درمیان مؤثر ربط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر گورہے نے 2026 سے 2031 تک کے 5 برسوں کے لیے 6 ترجیحی شعبے تجویز کیے۔ ان میں نگہداشت کی معیشت اور باعزت روزگار، خواتین کا تحفظ، انصاف اور نقل و حرکت، خواتین کے نام پر مالی اثاثے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ، ڈیجیٹل اور مالی خواندگی کے ساتھ ساتھ صنفی حساس مقامی خود اختیاری ادارے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی مراکز، بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز، بزرگوں کی دیکھ بھال کی سہولیات، خواتین کے ہاسٹل اور گھریلو ملازمین کے لیے سہولیات کو بھی بنیادی ڈھانچے کا درجہ دیا جانا چاہیے۔
سرکاری مکان یا زمین فراہم کرتے وقت خواتین کو ملکیت کا حق دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر گورہے نے کہا کہ خواتین کسانوں کو بیمہ، مویشی پروری، قدرتی کاشتکاری اور بازار سے متعلق منصوبوں کا فائدہ ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق خواتین کی حقیقی ضروریات کو پالیسی اور بجٹ سازی میں شامل کرنا ہی خواتین کو مؤثر طور پر بااختیار بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہوگا۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے