سعودی عرب اور جرمنی میں اقتصادی شراکت داری بڑھانے پر اہم بات چیت
برلن، 8 ستمبر(ہ س)۔ سعودی عرب اور جرمنی نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تجارتی و سرمایہ کاری کے تعاون کو وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں نئی شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جرمنی
سعودی عرب اور جرمنی میں اقتصادی شراکت داری بڑھانے پر اہم بات چیت


برلن، 8 ستمبر(ہ س)۔ سعودی عرب اور جرمنی نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تجارتی و سرمایہ کاری کے تعاون کو وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں نئی شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیٹرینا رائش سے برلن میں ملاقات کی، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان شراکت داری کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور تجارتی و سرمایہ کاری کے تبادلے میں اضافے کے دستیاب مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اپنی اپنی اقتصادی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے طریقوں پر بھی بات کی، تاکہ مشترکہ منصوبوں کو سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

ملاقات کے دوران توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور متعلقہ شراکت داریوں کو وسعت دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔دونوں جانب سے توانائی کے تحفظ اور پائیداری، عالمی سپلائی چینز میں لچک پیدا کرنے اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس کے علاوہ اہم آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور سلامتی، بالخصوص ان میں تجارتی بحری آمدورفت کی آزادی یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

سعودی عرب اور جرمنی کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات موجودہ عالمی بحرانوں کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔دونوں فریقوں کے مطابق مضبوط اقتصادی شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے حصول میں معاون ہوگی بلکہ توانائی کی عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ملاقات میں اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande