
نئی دہلی، 8 ستمبر (ہ س) روس کا کہنا ہے کہ برکس ممالک کے ساتھ اس کی 90 فیصد تجارت قومی کرنسیوں میں ہوتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے روس کے لیے ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔ روس ڈالر کو بین الاقوامی کرنسی کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف نہیں ہے۔ درحقیقت، یہ امریکی پالیسیاں ہیں جو ڈالر کو منافع کمانے سے روک رہی ہیں۔ انہوں نے روس کو اپنی بین الاقوامی تجارت میں زیادہ قومی کرنسیاں استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے یہ ریمارکس نئی دہلی میں انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سپوتنک انڈیا کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس میں دیے۔ پریس بات چیت آئندہ برکس سربراہ اجلاس اور صدر ولادیمیر پوتن کے ہندوستان کے دورے کے سلسلے میں تھی۔
پیسکوف نے کہا کہ برکس کسی کے خلاف تشکیل دیا گیا گروپ نہیں ہے، بلکہ یہ مل کر اپنے قومی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کا مقصد مغرب کے ساتھ تصادم نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈالر کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پیسکوف نے کہا کہ اگر وہ ہمیں اپنا پیسہ (ڈالر) استعمال نہیں کرنے دیں گے تو ہم اپنا پیسہ (قومی کرنسی) استعمال کریں گے۔ ہم کسی بھی قسم کی ڈالر مخالف پالیسی کی حمایت نہیں کرنا چاہتے۔ ہم صرف وہی کر رہے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے لیے بہترین ہو۔
آئندہ برکس سربراہ اجلاس اور بھارت-روس رہنماو¿ں کے مکالمے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر پوتن کے درمیان جمعہ کو دو طرفہ ملاقات ہونے کا امکان ہے۔ اس میں تجارت، سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ صدر پوتن اور وزیر اعظم مودی کو حساس عالمی مسائل پر ان کے متعلقہ موقف سے آگاہ کیا جائے گا۔ مصنوعی ذہانت کا تعاون بھی دونوں رہنماو¿ں کی بات چیت کا ایک اہم ایجنڈا ہوگا۔
روس ہندوستان کی قیادت میں ہونے والے برکس مذاکرات کے نتائج کے بارے میں کافی پر امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس کے لیے روس کا ایجنڈا سلامتی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کثیر قطبی دنیا کا تصور برکس کے نظریے میں نمایاں ہے۔ تاہم، امریکہ کا نام لیے بغیر، انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں ایک قطبی دنیا کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے لیے خطرناک طریقے بھی اپنائے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی عالمی اکثریت کثیر قطبی دنیا کے حق میں ہے اور ہندوستان اس سمت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یوکرین کے حوالے سے انہوں نے ہندوستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے امریکہ اور صدر ٹرمپ کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کا تنازعہ ان کے ذریعے شروع نہیں کیا گیا تھا۔ 2014 میں فرانس، برطانیہ، جرمنی اور امریکہ نے اقتدار کی منتقلی کی۔ اقتدار کی تبدیلی کی وجہ سے قوم پرست قوتوں نے روسی عوام کو دبانا شروع کر دیا تھا۔ روس اس تنازعہ کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ ہم تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جلد ہی روس، یوکرین اور امریکہ بات چیت دوبارہ شروع کریں گے۔
انہوں نے روس کے ساتھ کاروبار کرنے پر امریکی پابندیوں کو بھی غیر قانونی اور بین الاقوامی تجارت کے قوانین کے خلاف قرار دیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی