ایفل ٹاور میں خواتین ملازمین سے متعلق تنازعہ کو وزارت خارجہ نے متعلقہ فریقوں کا معاملہ قرار دیا
نئی دہلی، 8 ستمبر (ہ س)۔ وزارت خارجہ نے پیرس میں واقع ایفل ٹاور میں بھارتی نژاد مذہبی تنظیم بی اے پی ایس کے ایک وفد کے نجی دورے کے دوران مبینہ طور پر خواتین ملازمین کو بعض علاقوں سے ہٹائے جانے یا ان کی جگہ مرد ملازمین کو تعینات کیے جانے کی خبروں پر
MEA-EIFFEL-TOWER-GENDER-CONTRO


نئی دہلی، 8 ستمبر (ہ س)۔ وزارت خارجہ نے پیرس میں واقع ایفل ٹاور میں بھارتی نژاد مذہبی تنظیم بی اے پی ایس کے ایک وفد کے نجی دورے کے دوران مبینہ طور پر خواتین ملازمین کو بعض علاقوں سے ہٹائے جانے یا ان کی جگہ مرد ملازمین کو تعینات کیے جانے کی خبروں پر کوئی موقف نہیں پیش کیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ متعلقہ فریقوں کا باہمی معاملہ ہے۔

یہ تنازعہ 5 ستمبر کو بی اے پی ایس کے وفد کے ایفل ٹاور کے دورے سے متعلق ہے۔ بی اے پی ایس نے پیرس کے قریب اپنا پہلا بڑا روایتی ہندو مندر تعمیر کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، وفد میں شامل برہم چاری سادھو خواتین سے رابطے یا بات چیت سے گریز کرنے کی مذہبی وابستگیوں پر عمل کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ایفل ٹاور کا انتظام چلانے والے ادارے ایس ای ٹی ای نے مبینہ طور پر وفد کے دورے کے دوران بعض خواتین ملازمین کی تعیناتی کے حوالے سے خصوصی انتظامات کیے تھے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، ”ہمیں پیرس کے علاقے میں بی اے پی ایس ادارے کی جانب سے ایک مندر کے افتتاح کی اطلاع ہے۔ ٹاور سے متعلق مخصوص معاملے کے بارے میں یہ مکمل طور پر متعلقہ اداروں کے درمیان کا معاملہ ہے۔“

یہ معاملہ اس وقت سنگین ہو گیا جب 7 ستمبر کو ایفل ٹاور کے ملازمین نے مبینہ طور پر صنفی بنیاد پر کیے گئے انتظامات کے خلاف ہڑتال کر دی۔ اس کے نتیجے میں ایفل ٹاور کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ بعد میں ایس ای ٹی ای نے اس انتظام کو اپنی غلطی قرار دیتے ہوئے معذرت کی۔ بی اے پی ایس نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی ہے۔ فرانس میں اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande