
جکارتہ (انڈونیشیا)، 8 ستمبر (ہ س)۔ انڈونیشیا نے اناک کراکاٹاؤ آتش فشاں کے پھٹنے سے خارج ہونے والی راکھ کے باعث متاثر ہونے والے پانچ ہوائی اڈوں کو منگل کی صبح دوبارہ کھول دیا۔ یہ ہوائی اڈے دو روز تک بند رہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 3 ہزار پروازیں متاثر ہوئیں۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ ڈوڈی پُروَگاندھی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ تاہم، مزید تین ہوائی اڈے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے تک بند رہے۔
انڈونیشیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انتارا کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ ٹرانسپورٹ ڈوڈی پُروَگاندھی نے بتایا کہ سوئیکارنو-ہٹا بین الاقوامی ہوائی اڈہ، حلیم پرداناکوسوما ہوائی اڈہ، مغربی جاوا کے شہر بانڈونگ میں واقع حسین سسترانیگارا ہوائی اڈہ اور بانتن صوبے کے دو چھوٹے ہوائی اڈوں کو نصف شب کے کچھ دیر بعد دوبارہ کھول دیا گیا۔
پُروَگاندھی نے کہا، ’ہم احتیاطی رویہ اختیار کر رہے ہیں کیونکہ ہوا کا رخ بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ آتش فشاں کی راکھ اناک کراکاٹاؤ کے آس پاس موجود ہوائی اڈوں سے دور چلی گئی ہو۔
اتوار اور پیر کو ہوائی اڈوں کی بندش کے باعث تقریباً 2,961 پروازیں متاثر ہوئیں، جن میں 622 بین الاقوامی پروازیں شامل ہیں۔ اس صورتحال سے تقریباً 3 لاکھ 41 ہزار مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔پُروَگاندھی نے بتایا کہ متاثرہ ہوائی اڈوں اور ان کے آس پاس کے فضائی علاقے کی سلامتی کی جانچ کے بعد منگل کو مقامی وقت کے مطابق رات 12 بج کر ایک منٹ پر ہوائی اڈوں کا کام دوبارہ شروع کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پیر کی دوپہر 12 بج کر 10 منٹ پر(مغربی انڈونیشیا کے وقت، ڈبلیو آئی بی) حاصل ہونے والی تازہ معلومات کے مطابق اناک کراکاٹاؤ آتش فشاں کی راکھ تقریباً 15 ہزار فٹ کی بلندی پر دیکھی گئی۔
وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ پروازیں منسوخ ہونے سے متاثرہ مسافروں کو ضوابط کے مطابق 100 فیصد رقم واپس کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ان غیر ملکی شہریوں کو امیگریشن میں رعایت دے گی جو پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود انڈونیشیا میں رکنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan