
نئی دہلی، 8 ستمبر(ہ س)۔ملک کے زیورات کے شعبے کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک دیپا جیولرز لمیٹڈ کے حصص نے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کرتے ہوئے آج اسٹاک مارکیٹ میں مضبوط آغاز کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 177 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج یہ بی ایس ای پر24.88فیصدپریمیم کے ساتھ221.05 روپے کی سطح پر اور این ایس ای پر24.86فیصد پریمیم کے ساتھ 221 روپے کی سطح پر درج ہوا۔
مضبوط لسٹنگ کے بعد اسٹاک میں دن بھر اتار چڑھاو¿ کا شکاررہا۔ خریداری کی حمایت سے اسٹاک 222.10 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچا لیکن منافع وصولی میں فروخت کے دباو¿ کی وجہ سے یہ193.10 روپے کی سطح پر گربھی گیا۔ خرید و فروخت کے پورے دن کے کاروبارکے بعد، اسٹاک نے آج کی تجارت194.30 روپے کی سطح پر ختم کی۔ اس طرح، ٹریڈنگ کے پہلے دن منافع کی وصولی کے باوجود، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں نے فی حصص17.30روپے یعنی 9.77 فیصدکامنافع حاصل کیا۔
اس کمپنی کا 459.72 کروڑ روپے کا آئی پی او 3-1 ستمبر کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے اچھا رسپانس ملا تھا، جس کی وجہ سے یہ مجموعی طور پر 43.40 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ ان میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرس (کیو آئی بی) کے لیے ریزرو پورشن 36.73 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ اسی طرح نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کے لیے ریزرو پورشن میں 109.04 گنا سبسکرپشن آیا تھا۔ اس کے علاوہ ریٹیل انویسٹرز کے لیے ریزرو پورشن 19.09 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔
اس آئی پی او کے تحت 2 روپے فیس ویلیو والے 2,59,72,633 شیئر جاری کیے گئے ہیں۔ اس میں تقریباً 250 کروڑ روپے کے 1,41,24,293 نئے شیئر فروخت ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ قریب 210 کروڑ روپے کے 1,18,48,340 شیئر آفر فار سیل ونڈو کے ذریعے فروخت کیے گئے ہیں۔ آئی پی او میں نئے شیئروں کی فروخت سے حاصل کردہ رقم کا استعمال کمپنی پرانے قرض کے بوجھ کو کم کرنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کو پورا کرنے، آئی پی او سے متعلق اخراجات کی بھرپائی کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد میں کرے گی۔
دیپا جیولرس کی مالی حالت کی بات کریں تو پراسپیکٹس میں کیے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 24-2023 میں کمپنی کو 24.35 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 40.58 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 104.79 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 میں اسے 1,025.73 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل ہوئی، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 1,400.10 کروڑ روپے کی سطح پر آ گئی۔ جبکہ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کو 1,927.73 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔
اس مدت میں کمپنی کے قرض میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 کے اختتام پر کمپنی پر 77.93 کروڑ روپے کے قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 80.79 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 کی بات کریں تو اس دوران کمپنی پر واجب الادا قرض کا بوجھ بڑھ کر 111.11 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔
اس مدت میں کمپنی کی نیٹ ورتھ میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 میں یہ 92.55 کروڑ روپے کی سطح پر تھی۔ اسی طرح 25-2024 میں کمپنی کی نیٹ ورتھ بڑھ کر 133.21 کروڑ روپے کی سطح پر آ گئی۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں یہ 238.07 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
کمپنی کے ریزرواور سرپلس کی بات کریں تو اس مدت میں کمپنی اس محاذ پر بھی برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ مالی سال 24-2023 میں یہ 88.45 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔ اسی طرح 25-2024 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس زبردست اچھل کر 129.11 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس 221.67 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹرسٹ، ٹیکسز، ڈیپریسی ایشن اینڈ امورٹائزیشن) 24-2023 میں 35.77 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 25-2024 میں بڑھ کر 56.01 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 146.34 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی