اب دانتوں کا امپلانٹ آسان ہوگا، سائنسدانوں نے سنگل پیس ڈینٹل امپلانٹ تیارکیا
نئی دہلی، 8 ستمبر (ہ س)۔دانتوں کے علاج میں استعمال ہونے والے امپلانٹ کو مزید بہتر بنانے کی سمت میں بھارتی سائنس دانوں نے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا سنگل پیس ڈینٹل امپلانٹ تیار کیا ہے، جس میں دو الگ الگ مضبوط مواد کو یکجا کیا گی
DENTAL-IMPALNT-EASY-NOW-


نئی دہلی، 8 ستمبر (ہ س)۔دانتوں کے علاج میں استعمال ہونے والے امپلانٹ کو مزید بہتر بنانے کی سمت میں بھارتی سائنس دانوں نے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا سنگل پیس ڈینٹل امپلانٹ تیار کیا ہے، جس میں دو الگ الگ مضبوط مواد کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس سے مریض کو بار بار سرجری کرانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی انٹرنیشنل ایڈوانسڈ ریسرچ سینٹر فار پاو¿ڈر میٹالرجی اینڈ نیو میٹیریل (اے آر سی آئی) کے سائنس دانوں نے تیار کی ہے۔ اے آر سی آئی، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے تحت کام کرنے والا ایک خودمختار ادارہ ہے۔

اے آر سی آئی کے سائنس دانوں کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عام طور پر دانتوں کا امپلانٹ تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں ایک حصہ جبڑے کی ہڈی میں نصب کیا جاتا ہے، دوسرا حصہ اسے دانت کے کراو¿ن سے جوڑتا ہے، جبکہ تیسرا حصہ مصنوعی دانت یعنی کراو¿ن ہوتا ہے۔ ان حصوں کے درمیان معمولی سی حرکت بھی امپلانٹ کے ڈھیلا ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔

اس کے علاوہ روایتی امپلانٹ لگانے کے لیے کئی معاملات میں دو سے تین مرتبہ سرجری کرنی پڑتی ہے۔ اس کے باعث مریض کو درد اور تکلیف کے ساتھ ساتھ علاج مکمل ہونے میں زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔

ان تمام مسائل کو دور کرنے کے لیے سائنس دانوں نے ٹائٹینیم الائے اور یٹریا اسٹیبلائزڈ زرکونیا کو ملا کر ایک نئی دو پرتوں پر مشتمل ساخت تیار کی ہے۔ دونوں مواد مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی جسم کے لیے موزوں بھی سمجھے جاتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق اس نئی ٹیکنالوجی سے امپلانٹ کی مضبوطی اور استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے اور جبڑے کی ہڈی کے ساتھ اس کا بہتر طور پر جڑنا ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ٹیکنالوجی روایتی امپلانٹ کی بعض خامیوں کو دور کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔سائنس دانوں کو امید ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں دانتوں کے امپلانٹ کی پوری کارروائی کو آسان، کم پیچیدہ اور مریضوں کے لیے زیادہ آرام دہ بنانے میں مدد دے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande