جسٹس اشونی کمار مشرا نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا
گورنر پنجاب نے لوک بھون میں حلف دلایا، پنجاب حکومت نے کیا بائیکاٹ چنڈی گڑھ، 7 ستمبر (ہ س)۔ حکومت پنجاب کی مخالفت کے باوجود جسٹس اشونی کمار مشرا نے پیر کی صبح پنجاب لوک بھون میں منعقدہ ایک تقریب میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے 37 ویں چیف جسٹس کے
حلف


گورنر پنجاب نے لوک بھون میں حلف دلایا، پنجاب حکومت نے کیا بائیکاٹ

چنڈی گڑھ، 7 ستمبر (ہ س)۔ حکومت پنجاب کی مخالفت کے باوجود جسٹس اشونی کمار مشرا نے پیر کی صبح پنجاب لوک بھون میں منعقدہ ایک تقریب میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے 37 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا۔ پنجاب کے گورنر گلاب چند کٹاریہ نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔

جسٹس مشرا سے پہلے جسٹس شیل ناگو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ جون 2026 میں انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔

پنجاب حکومت نے اتوار کو جسٹس مشرا کی تقرری کی مخالفت کی تھی۔ ریاستی حکومت نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا اور تقرری کے خلاف قرارداد منظور کی۔ حکومت نے کہا تھا کہ تقرری کے وقت پنجاب حکومت کی رائے نہیں لی گئی اور مقرر کردہ ایس او پی کی خلاف ورزی ہوئی۔ حکومت نے اس بنیاد پر حلف برداری پر روک لگانے کی درخواست کی تھی۔

پہلے کے اعلان کے مطابق، پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان اور ریاستی حکومت کے دیگر وزراءحلف برداری کی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تقریب کے دوران احتجاج کے امکان کے بارے میں معلومات دی تھیں۔ اس کے پیش نظر چنڈی گڑھ پولیس نے کئی راستوں کو سیل کرکے اور ٹریفک کو موڑ کر حفاظتی انتظامات کو سخت کر دیا۔ پنجاب لوک بھون کی طرف جانے والی گاڑیوں کی اچھی طرح جانچ پڑتال کی گئی۔

ہریانہ کے وزیر اعلی نائب سنگھ سینی اور گورنر پروفیسر اسیم کمار گھوش موجود تھے۔ اسٹیج پر پنجاب کے وزیر اعلی کے لیے مقرر کردہ کرسی خالی رہی۔ تقریب میں ہریانہ کے وزیر زراعت شیام سنگھ رانا سمیت کئی حکام بھی موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande