مدھیہ پردیش میں بارش نے بڑھائیں مشکلات، کئی علاقوں میں سیلاب جیسی صورت حال
بھوپال، 6 ستمبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں مانسون کے اثرات اب مغربی حصے میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ مشرقی اضلاع میں بارش کے بعد اب مغربی علاقے میں بھی مسلسل پانی برس رہا ہے۔ کئی مقامات پر ندیاں طغیانی پر ہیں اور سیلاب جیسی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ برگی،
علامتی تصویر


بھوپال، 6 ستمبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں مانسون کے اثرات اب مغربی حصے میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ مشرقی اضلاع میں بارش کے بعد اب مغربی علاقے میں بھی مسلسل پانی برس رہا ہے۔ کئی مقامات پر ندیاں طغیانی پر ہیں اور سیلاب جیسی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ برگی، بھدبھدا اور کلیاسوت ڈیم کے گیٹ کھولے جا چکے ہیں۔ ریاست میں اب تک 30 انچ سے زیادہ بارش درج کی جا چکی ہے، جبکہ بھوپال سمیت 12 اضلاع میں معمول کے اوسط سے زیادہ پانی برس چکا ہے۔ اتوار کے روز گوالیار-چنبل اور ساگر ڈویژن کے 15 اضلاع میں بھاری بارش کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔

ہفتہ کے روز سیدھی ضلع کے کیمور پہاڑ کی موڑا گھاٹی میں بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہو گئی۔ پہاڑ سے بڑے پتھر اور درخت سڑک پر آ گرے، جس سے سیدھی-اتر پردیش راستہ بند ہو گیا۔ سڑک کے نیچے 100 فٹ سے زیادہ گہری کھائی ہونے کی وجہ سے اس حصے میں حادثے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ چھترپور میں موسلادھار بارش کی وجہ سے تمام اسکول بند رہے۔ لوکش نگر میں بارش کے دوران ایک کچا مکان گر گیا۔ امریا میں سیلاب کے پانی میں ایک خاتون بہہ گئی۔ میہر میں پلوں کے اوپر سے پانی بہنے کے باعث مکند پور راستے پر آمد و رفت بند ہے۔ بھوپال میں بھدبھدا کے بعد کلیاسوت ڈیم کے گیٹ بھی کھول دیے گئے ہیں۔ کلیاسوت ندی کے کنارے رہنے والے لوگوں کو ہوشیار رہنے کی صلاح دی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے سینٹر بھوپال کے مطابق اتوار کو گوالیار، مرینا، بھنڈ، دتیا، شیوپوری، گنا، اشوک نگر، راج گڑھ، نیواڑی، ٹیکم گڑھ، چھترپور، ساگر، دموہ، پنا اور ستنا میں بھاری بارش کا الرٹ ہے۔ اس کے علاوہ بھوپال، رائسین، سیہور، ودیشا، اندور، دھار، علی راج پور، برہان پور، بڑوانی، کھنڈوا، کھرگون، جھابوا، اجین، نیمچ، آگر-مالوہ، مندسور، شاجاپور، دیواس، رتلام، نرمداپورم، بیتول، ہردہ، شیوپور، جبل پور، کٹنی، چھندواڑہ، سیونی، نرسنگھ پور، بالاگھاٹ، منڈلا، ڈنڈوری، پانڈھرنا، ریوا، سیدھی، سنگرولی، مئوگنج، میہر، شہڈول، امریا اور انوپ پور میں کہیں تیز تو کہیں ہلکی بارش کا امکان ہے۔ 7، 8 اور 9 ستمبر کو بھی ریاست کے کچھ اضلاع میں تیز بارش دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق انوپ پور، چھترپور، میہر، منڈلا، مئوگنج، نیواڑی، پنا، ستنا، شہڈول، سیدھی، سنگرولی، ٹیکم گڑھ، امریا، بھنڈ، بھوپال، برہان پور، دتیا، گنا، گوالیار، کھرگون، راج گڑھ، شیوپور اور شیوپوری میں اوسط سے زیادہ بارش درج کی گئی ہے۔

ریاست کے مشرقی حصے کے جبل پور، ریوا، ساگر اور شہڈول ڈویژن میں بارش کا تناسب 1 فیصد تک کم ہے۔ وہیں بالاگھاٹ، ڈنڈوری، چھندواڑہ، دموہ، جبل پور، کٹنی، نرسنگھ پور، پانڈھرنا، ریوا، ساگر اور سیونی میں معمول سے 1 سے 22 فیصد تک کم بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ تاہم، گزشتہ ایک ہفتے میں مشرقی حصے کی صورتِ حال میں کافی بہتری آئی ہے۔ مسلسل بارش کے باعث کئی اضلاع میں سیلاب جیسی صورتِ حال پیدا ہوئی، جس کا اثر سیزن کی بارش کے اعداد و شمار پر بھی پڑا ہے۔ پہلی بار اس سیزن میں مشرقی حصے کی بارش معمول سے بہتر حالت میں پہنچی ہے اور یہ تناسب 3 فیصد زیادہ ہو گیا ہے۔

اس کے برعکس مغربی حصے کے آگر-مالوہ، علی راج پور، اشوک نگر، بیتول، دیواس، دھار، ہردہ، اندور، جھابوا، مندسور، مرینا، نرمداپورم، نیمچ، بڑوانی، کھنڈوا، رائسین، رتلام، سیہور، شاجاپور، اجین اور ودیشا میں اوسط سے 2 سے 53 فیصد تک کم بارش درج کی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande