شعبۂ تاریخ میں یومِ اساتذہ کی تقریب، دو اساتذہ کو الوداعیہ
اعظم گڑھ، 05ستمبر(ہ س)۔ شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ کے شعبۂ تاریخ میں یومِ اساتذہ کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اساتذہ کے مقام و مرتبے، ان کی علمی و تدریسی خدمات اور طلبہ کی فکری و اخلاقی تربیت میں ان کے کردار کو اجاگر کیا گی
UP-SHIBLI-COLLEGE-TEACHERS-DAY


اعظم گڑھ، 05ستمبر(ہ س)۔ شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ کے شعبۂ تاریخ میں یومِ اساتذہ کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اساتذہ کے مقام و مرتبے، ان کی علمی و تدریسی خدمات اور طلبہ کی فکری و اخلاقی تربیت میں ان کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر شعبۂ تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شکیم احمد اور ڈاکٹر تبریز احمد کے اعزاز میں الوداعیہ بھی پیش کیا گیا جن میں سے ایک کی بھوپال جبکہ دوسرے کی دربھنگہ سینٹر پر تقرری ہوئی۔

تقریب کی نظامت اروند یادو، ایم اے تاریخ، سوم سمسٹر نے کی، جبکہ صدارت پروفیسر علاؤالدین خان اصلاحی نے کی۔ پروگرام پروفیسر محی الدین آزاد اصلاحی، شعبہ¿ عربی، شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ کی زیرِ سرپرستی منعقد ہوا۔

تقریب کا آغاز شعبۂ تاریخ کی سابق طالبہ ندا بانو کے اظہارِ خیال سے ہوا۔ انہوں نے اساتذہ کی علمی و تربیتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شکیم احمد اور ڈاکٹر تبریز احمد کے ساتھ وابستہ اپنی یادیں بیان کیں اور دونوں اساتذہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس کے بعد پروفیسر سعدالظفر جمی، شعبۂ زولوجی، ڈاکٹر ابو رافع، شعبۂ اردو، اور ڈاکٹر شہریار، شعبۂ تاریخ نے خطاب کیا۔ مقررین نے یومِ اساتذہ کی اہمیت، استاد کے مقام و مرتبے اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت میں اساتذہ کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ڈاکٹر شکیم احمد اور ڈاکٹر تبریز احمد کی تدریسی و علمی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے مستقبل کے علمی و پیشہ ورانہ سفر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

پروفیسر محی الدین آزاد اصلاحی نے اپنے خطاب میں استاد کے مقام اور تعلیمی ادارے میں اس کے بنیادی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ استاد کا کام محض کتابی علم منتقل کرنا نہیں، بلکہ طلبہ کی فکری تربیت، شخصیت سازی اور ان کے مستقبل کی تعمیر بھی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر شکیم احمد اور ڈاکٹر تبریز احمد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں اساتذہ نے شعبۂ تاریخ سے وابستگی کے دوران طلبہ کی رہنمائی اور علمی ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے دونوں اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ یا ذمہ داریاں تبدیل ہونے کے باوجود علم، تحقیق اور طلبہ کی رہنمائی کا جذبہ برقرار رہنا چاہیے اور اپنی علمی صلاحیتوں کو معاشرے اور علمی دنیا کی بہتری کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔

تقریب کے صدر پروفیسر علاؤالدین خان اصلاحی نے اپنے صدارتی خطاب میں یومِ اساتذہ کی معنویت اور استاد و شاگرد کے باہمی تعلق کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا مقصد محض ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ علم کے ساتھ اچھا اخلاق، مضبوط کردار، شعور اور ذمہ داری پیدا کرنا بھی ہے۔

انہوں نے ڈاکٹر شکیم احمد اور ڈاکٹر تبریز احمد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں اساتذہ نے شعب? تاریخ میں اپنی ذمہ داریاں محنت اور اخلاص کے ساتھ انجام دیں اور طلبہ کی علمی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے دونوں اساتذہ کے آئندہ علمی و پیشہ ورانہ سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر شکیم احمد اور ڈاکٹر تبریز احمد نے بھی اظہارِ خیال کیا اور شعبۂ تاریخ کے اساتذہ، طلبہ اور تقریب کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں اساتذہ نے طلبہ کو محنت، لگن اور حصولِ علم پر توجہ دینے کی تلقین کی اور شبلی نیشنل کالج سے وابستہ اپنی یادیں بھی بیان کیں۔

تقریب میں شعبۂ تاریخ کے طلبہ کے علاوہ شعبۂ عربی کے طلبہ اور اساتذہ نے بھی شرکت کی۔ طلبہ نے دونوں اساتذہ کے لیے اپنے احترام، محبت اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، جس سے تقریب کا ماحول جذباتی، پُرخلوص اور یادگار ہوگیا۔

آخر میں ڈاکٹر شکیم احمد اور ڈاکٹر تبریز احمد کی علمی و تدریسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں نیک تمناؤں اور دعاؤں کے ساتھ الوداع کہا گیا۔ تقریب میں شعبۂ تاریخ و عربی کے اساتذہ، طلبہ اور دیگر متعلقین نے شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande