
نئی دہلی، 5 ستمبر (ہ س)۔ لیکچرر کے عہدوں پر بھرتی کے عمل میں درج فہرست ذات (ایس سی) کے امیدواروں کو ریزرویشن کے فائدے سے محروم کیے جانے کی شکایت پر قومی کمیشن برائے درج فہرست ذات (این سی ایس سی) نے پنجاب کے چیف سیکریٹری کو نوٹس جاری کرکے سات دن کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ این سی ایس سی کے چیئرمین کشور مکوانا نے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ترون چُگ کی جانب سے پنجاب کے محکمہ تعلیم میں لیکچرر بھرتی میں ریزرویشن پالیسی پر مبینہ طور پر عمل درآمد نہ کیے جانے کے سلسلے میں ایک عرضداشت موصول ہوئی ہے۔
عرضداشت میں پنجاب کے محکمہ تعلیم کی جانب سے مشتہر کیے گئے 1,013 لیکچرر عہدوں کی بھرتی کے عمل میں درج فہرست ذات کے امیدواروں کو ریزرویشن کے فائدے سے محروم کیے جانے کی شکایت کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ کئی مضامین، جن میں پنجابی، کامرس، ریاضی، فزکس، معاشیات، کیمسٹری، حیاتیات اور جغرافیہ وغیرہ شامل ہیں، میں ریزرویشن کے قواعد اور مقررہ روسٹر نظام پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا گیا۔
ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 338 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کمیشن نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب حکومت کے چیف سیکریٹری کو نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں انہیں معاملے کے حقائق، الزامات پر کی گئی کارروائی اور تمام متعلقہ ریکارڈ، بشمول بھرتی کا نوٹیفکیشن اور ریزرویشن روسٹر، نوٹس موصول ہونے کے سات دن کے اندر کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
کمیشن کے چیئرمین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں وہ آئین کے آرٹیکل 338 کے تحت سول عدالت کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ذاتی حاضری کے لیے سمن جاری کر سکتے ہیں۔
مکوانا نے کہا کہ لیکچرر بھرتی کے عمل میں درج فہرست ذات کے امیدواروں کو ریزرویشن کے فائدے سے محروم کیے جانے کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ کمیشن درج فہرست ذاتوں کے آئینی حقوق کے تحفظ اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کی دفعات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ کمیشن قانون کے مطابق انصاف یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد