(اپ ڈیٹ) چھتیس گڑھ کے جیرم گھاٹی قتل عام معاملے میں این آئی اے عدالت نے تمام 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیا
۔ عدالت 16 ستمبر کو سزا سنائے گی
عدالت 16 ستمبر کو سزا سنائے گی


جگدل پور، 5 ستمبر (ہ س)۔ چھتیس گڑھ کی جگدل پور مین قائم این آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج اجے سنگھ راجپوت نے تقریباً 13 سال پرانے جیرم گھاٹی قتل عام معاملے میں ہفتہ کے روز اہم فیصلہ سناتے ہوئے تمام 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیا۔

طویل عرصے سے اس معاملے کے فیصلے کا انتظار کر رہے متاثرہ خاندانوں کے لیے اسے ایک اہم فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے 101 گواہوں کے بیانات عدالت میں درج کرائے گئے تھے۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے میں سینئر وکیل دنیش پانگریہی نے پیروی کی تھی۔

معاملے میں سینئر وکیل دنیش پانگریہی نے بتایا کہ این آئی اے کی خصوصی عدالت نے تمام 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریکارڈ کے مطابق این آئی اے میں اس معاملے کی ایف آئی آر نمبر 06/2013 درج ہے، جس میں آئی پی سی کی دفعات 147، 148، 149، 341، 121، 121اے، 122، 307، 302، 427، 396، 397 اور 120 بی سمیت کئی دفعات لگائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ بھارتی اسلحہ ایکٹ کی دفعات 25 اور 27، دھماکہ خیز مواد ایکٹ کی دفعات 3، 4 اور 5، نیز یو اے پی اے کی دفعات 16، 18، 20، 38(2)، 39(2) اور 40(2) کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت 16 ستمبر کو سزا کا تعین کرے گی۔

دفاعی فریق کے وکیل اروند چودھری نے کہا کہ این آئی اے عدالت نے تمام 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیا ہے۔ ملزمان کو سزا سنانے کے لیے 16 ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے این آئی اے عدالت کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے۔

جیرم گھاٹی قتل عام معاملے میں استغاثہ نے مجموعی طور پر 11 ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تھی۔ ان میں سے ایک اہم ملزم کی ٹرائل کے دوران ہی موت ہوگئی۔ اس کے بعد باقی 10 ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری رہی۔ این آئی اے نے معاملے کی تفتیش مکمل کرنے کے بعد چارج شیٹ داخل کی تھی۔

تقریباً 13 سال بعد 5 ستمبر کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے باقی تمام 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے اپنا حتمی فیصلہ سنایا۔ ان ملزمان میں پرمیلا موڈیم، چیتو لیکام عرف منّا، سُمترا، پونیم موڈیم، مُکّا منڈاوی، کوسا کواسی عرف کوسارام، آیت مرکام، مڑکامی دیوا، جوگ مڑکامی اور بنجمی سینا عرف چمرو عرف ڈینگا مہادیو شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 25 مئی 2013 کو سکما سے واپس آ رہے کانگریس کی پریورتن یاترا کے قافلے کو دربھا علاقے کی جیرم گھاٹی میں نکسلیوں نے گھات لگا کر منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے میں کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں سمیت مجموعی طور پر 32 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس حملے میں سابق مرکزی وزیر ودیا چرن شکلا، سابق قائد حزب اختلاف مہندر کرما، ریاستی کانگریس کے اس وقت کے صدر نند کمار پٹیل، ان کے بیٹے دنیش پٹیل سمیت کئی اہم رہنماؤں کی جان گئی تھی۔ اس واقعے نے پورے ریاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ 25 مئی 2013 کے اس واقعے کو نکسلیوں کی جانب سے کیے گئے سب سے بڑے سیاسی حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

واقعے کے دو دن بعد 27 مئی 2013 کو کانگریس کی مرکزی حکومت نے اس کی تحقیقات این آئی اے کے حوالے کی تھیں۔ این آئی اے نے 40 اہم ملزمان سمیت 150 سے زائد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی، جن میں سے 11 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران ایک ملزم کی موت ہوگئی، جبکہ باقی 10 ملزمان حراست میں ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande