
نئی دہلی، 5، ستمبر (ہ س )۔
نئی دہلی کے اہم اور مشہور علاقے ساکیت میں دو مسلم خاتون صحافیوں کے ساتھ پولیس کے ناروا سلوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعہ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا ملّی کونسل کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری شیخ نظام الدین نے کہا کہ ”دو خاتون صحافی شاہین خان اور نفیسہ خان اپنے صحافتی فرائض ادا کرتے ہوئے ایک سرکاری تقریب کی کوریج کے لیے ساکیت کے ایک اسپتال گئی تھیں، جہاں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا بھی موجود تھیں۔ انھوں نے سوالات کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انھیں حراست میں لے لیا اور ساکیت پولیس اسٹیشن لے گئی، جہاں ان کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی گئی۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ صحافیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی مسلم شناخت سامنے آنے کے بعد ان کے ساتھ پولیس کا رویہ مزید سخت ہوگیا۔ یہ واقعہ بہت حساس اور نہایت افسوس ناک ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آج کے ہندستان میں میڈیا کو ظالمانہ طور پر کچل دیا گیا ہے۔ اس صورت حال کو جمہوریت کے لیے کسی بھی طرح مفید قرار نہیں دیا جاسکتا۔“
شیخ نظام الدین نے مزید کہا کہ ”کسی بھی شہری، خصوصاً صحافت سے وابستہ خواتین کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بدسلوکی ناقابلِ قبول ہے۔ اگر سکیورٹی سے متعلق کوئی خلاف ورزی ہوئی تھی تو اس کے تدارک کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی تھی، لیکن کسی بھی صورت میں جسمانی تشدد، توہین آمیز رویہ یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ معاملہ صرف دو خواتین صحافیوں کا نہیں بلکہ آزاد · صحافت، خواتین کے وقار، شہری آزادیوں اور قانون کی یکساں عمل داری کا بھی بن گیا ہے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس افسوس ناک واقعہ کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیق کرائی جائے۔ جن پولیس اہلکاروں کے خلاف تشدد، بدسلوکی یا مذہبی بنیاد پر امتیازی سلوک کا الزام درست ثابت ہو، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دہلی پولیس اس معاملہ کو محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کے تمام پہلوو¿ں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائے گی اور عوام کے سامنے حقائق واضح کرے گی۔“
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais