
ڈھاکہ، 05 ستمبر (ہ س)۔
بنگلہ دیش حکومت ہندوستان اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے کسی ایک ملک پر مرکوز حکمت عملی اپنانے کے بجائے ملک کی مجموعی برآمدی صلاحیت بڑھانے پر زور دے گی۔ وزیر تجارت خاندکر عبد المقتدر نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ میں یہ اطلاع دی۔
بنگلہ دیش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بنگلہ دیش سنگباد سنستھا (بی ایس ایس) کے مطابق، وزیر نے قومی پارلیمنٹ میں وقفۂ سوالات کے دوران اپوزیشن جماعت اسلامی کے رکن پارلیمنٹ ایم عبد الباطن کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور چین کے ساتھ بنگلہ دیش کا تجارتی خسارہ کافی بڑا ہے، لیکن اسے محض کسی ایک ملک سے جڑے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں کسی ایک ملک پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے اپنی مجموعی برآمدی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہے۔‘‘
مقتدر نے بتایا کہ حکومت نے برآمدات بڑھانے کے امکانات کے حامل متعدد شعبوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں چمڑا، پٹ سن (جوٹ)، جہاز سازی، لائٹ انجینئرنگ اور سیمی کنڈکٹر جیسے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں سازگار پالیسیاں وضع کرنے اور نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی، ایسی صنعتوں کو بھی فروغ دینے کی کوشش ہو رہی ہے جو فی الحال اپنی مکمل برآمدی صلاحیت کو بروئے کار نہیں لا سکی ہیں۔
وزیر تجارت کے مطابق، بنگلہ دیش اور ہندوستان کے مابین دوطرفہ تجارت کی مجموعی مالیت تقریباً 12.7 ارب امریکی ڈالر ہے۔ اس میں بنگلہ دیش ہندوستان کو تقریباً 1.89 ارب ڈالر کا سامان برآمد کرتا ہے، جبکہ ہندوستان سے ہونے والی درآمدات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں ہندوستان کے ساتھ بنگلہ دیش کا تجارتی خسارہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں مزید بڑھا ہے۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں بنگلہ دیشی مصنوعات کی برآمد کے ابھی کافی امکانات موجود ہیں، لیکن دوطرفہ تجارت میں ہندوستانی فریق کی جانب سے کچھ پابندیاں بھی عائد ہیں۔
مقتدر نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں ہندوستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت میں بنگلہ دیش کی جانب سے بھی کچھ رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔ حال ہی میں بنگلہ دیش کے دورے پر آنے والے ہندوستانی تجارتی وفد نے دونوں ممالک کے تاجروں کے ساتھ مل کر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش نے اس تجویز پر اتفاق کیا ہے اور ہندوستان کے ساتھ برآمدات میں اضافے کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم متعدد طریقوں سے کوشاں ہیں تاکہ مستقبل میں ہندوستان کے ساتھ ہماری برآمدات کو مزید وسعت دی جا سکے۔
ہندوستان کے ساتھ بڑے تجارتی خسارے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مقتدر نے کہا کہ نجی شعبے کے تاجر اپنے کاروباری مفادات اور منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان سے مختلف اشیاء درآمد کرتے ہیں۔انہوں نے اشارہ دیا کہ تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے محض درآمدات گھٹانے پر تکیہ کرنے کے بجائے بنگلہ دیش کو اپنی پیداواری اور برآمدی صلاحیت کو مستحکم کرنا ہوگا، تاکہ غیر ملکی منڈیوں میں بنگلہ دیشی مصنوعات کی حصہ داری بڑھائی جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن