
بنگلہ دیش میں خسرہ کا قہر، بچوں کی اموات ایک ہزار کے قریب پہنچی
ڈھاکہ، 05 ستمبر (ہ س)۔
بنگلہ دیش میں خسرہ کا قہر مسلسل سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ملک میں مارچ سے اب تک خسرہ اور خسرہ جیسی علامات سے 987 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1,114 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ وبا دہائیوں میں ملک کے اندر سامنے آنے والے سنگین ترین خسرہ بحرانوں میں سے ایک بن گئی ہے۔
بنگلہ دیش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بنگلہ دیش سنگباد سنستھا (بی ایس ایس) اور تائیوان کی قومی خبر رساں سینٹرل نیوز ایجنسی (سی این اے) نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کے حوالے سے بتایا کہ 15 مارچ سے اب تک مشتبہ خسرہ سے 888 بچوں کی موت ہوئی ہے۔ وہیں، تصدیق شدہ خسرہ سے مرنے والوں کی تعداد 99 ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں تصدیق شدہ خسرہ سے کسی موت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 15 مارچ سے اب تک خسرہ کے 1,62,262 مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں سے 19,567 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 40 نئے تصدیق شدہ کیسز درج کیے گئے۔ اس دوران 1,42,453 مشتبہ مریضوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا، جن میں سے 1,37,350 مریض علاج کے بعد صحت یاب ہو کر گھر لوٹ چکے ہیں۔
دارالحکومت ڈھاکہ کے بچوں کے اسپتالوں میں خسرہ سے متاثرہ اور مشتبہ مریضوں کی تعداد بڑھنے سے نظامِ صحت پر دباو بڑھ گیا ہے۔ اسپتال کے خسرہ وارڈ میں بڑی تعداد میں کمسن بچے زیر علاج ہیں اور کئی مریضوں کو سانس لینے میں شدید دشواری کے سبب آکسیجن کی ضرورت پڑ رہی ہے۔
اسپتال میں داخل ایک چھ ماہ کے بچے ایان کو پہلے نمونیا کے باعث داخل کرایا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے خسرہ ہو گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق، پہلے سے کمزور پھیپھڑوں اور غذائی قلت کی وجہ سے اس کی حالت مزید نازک ہو گئی۔ اسے کئی دنوں تک آکسیجن سپورٹ پر رکھا گیا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ موجودہ وبا میں بڑی تعداد میں چھ ماہ سے پانچ سال تک کے بچے متاثر ہوئے ہیں۔ کئی بچوں میں غذائی قلت بھی پائی گئی ہے، جس سے ان کی قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی ہے اور خسرہ کی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خسرہ انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے، جو بنیادی طور پر کھانسنے اور چھینکنے سے پھیلتی ہے۔ شدید صورتوں میں اس سے نمونیا، سانس لینے میں دشواری اور دماغ میں سوجن جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، خسرہ کے خلاف ٹیکہ کاری میں آنے والی کمی موجودہ بحران کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔ 2024 میں مجوزہ ویکسینیشن مہم سیاسی ہلچل کے باعث تاخیر کا شکار ہوئی، جبکہ 2025 کی مہم پر بھی ہڑتالوں اور عدم استحکام کے اثرات مرتب ہوئے۔
حکومت نے اب بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری مہم کا آغاز کیا ہے۔ حکام کے مطابق، ایسے بچوں کی نشاندہی کر کے انہیں ٹیکہ لگایا جا رہا ہے جنہیں مقررہ وقت پر خسرہ کی خوراک نہیں مل سکی تھی۔ وبائی امراض کے ماہر اور انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمولوجی، ڈیزیز کنٹرول اینڈ ریسرچ (آئی ای ڈی سی آر) کے سابق ڈائریکٹر محمود الرحمن نے خسرہ پر قابو پانے کے لیے مزید وسیع پیمانے پر ٹیکہ کاری مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے عوام میں بیداری پیدا کرنے کے ساتھ متاثرہ بچوں کو علیحدہ رکھنے، باقاعدگی سے ہاتھ دھونے اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کی جانب سے ماسک کے استعمال جیسے حفاظتی اقدامات پر بھی زور دیا۔
صحت کے امور میں وزیر اعظم کے خصوصی معاون ایس ایم ضیاء الدین حیدر نے موجودہ صورت حال کو ’’خوفناک‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طبی کارکنان ان بچوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں پہلے ٹیکے کی لازمی خوراک نہیں مل سکی تھی۔بنگلہ دیش میں خسرہ کا بڑھتا ہوا قہر اب حکومت اور نظامِ صحت کے لیے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ روزانہ ایک ہزار سے زائد مشتبہ معاملات کے سامنے آنے کے دوران ماہرین کا ماننا ہے کہ وائرس کے پھیلاو کی رفتار روکنے کے لیے تیز رفتار ٹیکہ کاری، ابتدائی علاج اور موثر نگرانی بے حد ضروری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن