

شکشک مہاکمبھ میں 118 اساتذہ کو اعزازات عطا کئے گئے، وزیر اعلیٰ نے کہا۔ اساتذہ معاشرے کی تعمیر کی مضبوط بنیاد ہیں
نئی دہلی، 05 ستمبر (ہ س)۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ہفتہ کے روز یومِ اساتذہ پر ’شکشک مہاکمبھ-اسٹیٹ ٹیچرس ایوارڈ 2026‘ میں 118 اساتذہ کو اعزاز سے نوازا۔ ان میں 20 ہیڈ آف اسکول (ایچ او ایس)، ڈی او ای اور ایم سی ڈی اسکولوں کے 69 اساتذہ نیز 3 سی ایم شری اسکولوں کے اساتذہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لائبریرین، اسپیشل ایجوکیٹر، کھیلوں کے اساتذہ سمیت تعلیم کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔
عظیم ماہرِ تعلیم اور ہندوستان کے سابق صدر ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کے یومِ پیدائش کے موقع پر تیاگ راج اسٹیڈیم میں منعقدہ اس تقریب میں اساتذہ کے خلوص و لگن، اختراع اور طلبہ کے مستقبل کی تعمیر میں ان کے گراں قدر کردار کا اعتراف کیا گیا۔ اس تقریب میں دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود، رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج، اراکینِ اسمبلی ابھے ورما، نیرج بسویا، چندن کمار چودھری سمیت متعدد عوامی نمائندے، ڈائریکٹر محکمہ تعلیم انکیتا آنند، کئی سینئر افسران سمیت مختلف اسکولوں کے اساتذہ، پرنسپل اور وائس پرنسپل موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز محض اساتذہ کی کامیابیوں کا اعتراف نہیں، بلکہ اس لگن، صبر اور اعتماد کا اعزاز ہے جس کے ذریعے اساتذہ روزانہ ہمارے بچوں کے مستقبل کو سنوارتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ معاشرے کی تعمیر کی مضبوط بنیاد ہیں۔ وہ طلبہ کو صرف کتابی علم ہی نہیں دیتے، بلکہ ان میں اخلاق، ہنر، خود اعتمادی، احساسِ ذمہ داری اور زندگی کی صحیح سمت بھی پیدا کرتے ہیں۔ استاد کا اثر صرف ایک طالب علم تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ پوری نسل کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت کا عزم ہے کہ دہلی کے ہر بچے کو ایسی معیاری تعلیم میسر آئے جو اسے علم کے ساتھ ساتھ ہنر، اخلاق اور خود اعتمادی بھی عطا کرے۔ اسی عزم کے تحت مالی سال 27-2026 میں تعلیم کے لیے 19,148 کروڑ روپے کے بجٹ کا التزام کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ٹیکنالوجی اور اسمارٹ تعلیمی وسائل کے ذریعے دہلی کے اسکولوں کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ دہلی کے اسکولوں میں طلبہ کی زبان اور گفتگو کی صلاحیت کو مستحکم کرنے کے لیے 170 جدید لینگویج لیبز قائم کی جا رہی ہیں، جن میں 70 سی ایم شری اسکول اور 100 دیگر سرکاری اسکول شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ’نیو‘، ’راشٹر نیتی‘ اور ’نپن سنکلپ‘ جیسے اقدامات کے ذریعے طلبہ میں صنعت کاری (انٹرپرینیورشپ)، اختراع، مسائل کے حل، جمہوری اقدار اور بنیادی خواندگی و عددی مہارتوں کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ دہلی حکومت کا پختہ عزم ہے کہ اپنی مدتِ کار میں طلبہ اور اساتذہ سے متعلق کسی بھی مسئلے کو ناقص نہیں چھوڑا جائے گا۔ دہلی کے مختلف التواء میں پڑے مسائل اور پرانی انتظامی خامیوں کا ازالہ حکومت کی ترجیح ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی کے مسائل کا مستقل حل محض سرکاری کوششوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے شہریوں کی سوچ اور رویے میں بھی تبدیلی لازمی ہے۔ انہوں نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ طلبہ میں صفائی ستھرائی، تحفظِ ماحولیات، قوانین کی پاسداری، نظم و ضبط، حساسیت اور ضرورت مندوں کی مدد جیسے اوصاف پیدا کریں، تاکہ بچپن ہی سے ذمہ دار شہریت کی بنیاد مستحکم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ‘ جیسی ضروری معلومات کے ذریعے بچوں کو تحفظ فراہم کرنا بھی اساتذہ کی اہم ذمہ داری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے دہلی کو بھیک مانگنے کی لعنت سے پاک بنانے کے عزم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا پہلا قدم یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے اساتذہ، اداروں اور شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کوئی بچہ اسکول سے باہر نظر آئے تو اسے تعلیم کے مرکزی دھارے سے جوڑنے کے لیے اجتماعی کوششیں کی جائیں۔
اس موقع پر وزیر تعلیم آشیش سود نے کہا کہ دہلی کے نظامِ تعلیم کو مستحکم بنانے میں ہزاروں اساتذہ کی انتھک محنت اور لگن کا کلیدی کردار ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کا مقصد محض بچوں کو اسکول تک پہنچانا نہیں، بلکہ انہیں اسکول سے بہتر فہم، بصیرت اور صلاحیتوں سے لیس کرنا ہے۔
وزیر تعلیم نے بتایا کہ اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے 10,417 اساتذہ کی بھرتی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 613 خصوصی اساتذہ کی تقرری کا بھی انتظام کیا گیا ہے، تاکہ خصوصی ضروریات کے حامل طلبہ کو بہتر تعلیمی معاونت حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد اساتذہ کو مناسب افرادی قوت فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ طلبہ کی تعلیم اور ہمہ جہت شخصیت کی نشوونما پر زیادہ مؤثر ڈھنگ سے توجہ مرکوز کر سکیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن