خلائی شعبے میں ہندوستان کی ایک اور بڑی چھلانگ، ای او ایس-05 کا کامیاب تجربہ
سری ہری کوٹا، 04 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان نے خلائی شعبے میں آج ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے علی الصبح سری ہری کوٹا سے جی ایس ایل وی-ایف 17 راکٹ کے ذریعے زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیٹلائٹ (ارتھ آبزرویشن سیٹلائ
تاریخی لمحہ۔ فوٹو انٹرنیٹ میڈیا


سری ہری کوٹا، 04 ستمبر (ہ س)۔

ہندوستان نے خلائی شعبے میں آج ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے علی الصبح سری ہری کوٹا سے جی ایس ایل وی-ایف 17 راکٹ کے ذریعے زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیٹلائٹ (ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ) ای او ایس-05 کا کامیاب تجربہ کیا۔ اسرو کے چیئرمین وی نارائنن سمیت اسرو کے متعدد سابق سربراہان کی موجودگی میں ہونے والا یہ تجربہ کئی معنوں میں تاریخی ہے۔

اسرو کے مطابق، لانچ کے تقریباً 18 منٹ بعد ہندوستان کے پہلے امیجنگ سیٹلائٹ کو جیو سنکرونس مدار میں کامیابی کے ساتھ نصب کر دیا گیا۔ ای او ایس-05 سے رئیل ٹائم میں تصاویر موصول ہوں گی۔ اس سے زراعت اور آفات کے انتظام جیسے شعبوں میں مدد ملے گی۔ اسرو کے سربراہ نارائنن نے کہا کہ یہ مشن ہندوستان کی ارتھ آبزرویشن کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائے گا۔

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن نے کہا کہ جی ایس ایل وی-ایف 17 راکٹ کے ذریعے کیا جانے والا یہ تجربہ جی ایس ایل وی کی 19ویں پرواز ہے۔ 04 ستمبر کو نصف شب کے تقریباً تین گھنٹے بعد 02.55 بجے ستیش دھون خلائی مرکز سے خلا میں بھیجا گیا یہ سیٹلائٹ ہندوستان کا پہلا جدید ترین جیو سنکرونس امیجنگ سیٹلائٹ ہے۔ ای او ایس-05 مشن کا مقصد سب-جیو سنکرونس ٹرانسفر آربٹ میں نصب سیٹلائٹ کے ذریعے زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے اہم معلومات فراہم کرنا ہے۔ اس لانچ کا مشاہدہ کرنے کے لیے فلکیات میں دلچسپی رکھنے والے ناظرین بڑی تعداد میں اسرو کے مرکز پر موجود تھے۔ لانچ کے تقریباً 22 منٹ بعد مشن ڈائریکٹر نے تجربے کے کامیاب ہونے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اسرو چیف نارائنن نے اس سے متعلق چند اہم امور شیئر کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار جب ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ 05 مدار میں فعال ہو جائے گا، تو یہ جیو آربٹ سے ہندوستان کا پہلا مخصوص امیجنگ سیٹلائٹ بن جائے گا، جو ہمارے ملک کے لیے اہم اسٹریٹجک ڈیٹا فراہم کرے گا۔

اسرو سربراہ نارائنن نے بتایا کہ آج کا لانچ، سری ہری کوٹا سے اسرو کا 107 واں تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ایل وی-ایف 17 میں مسلسل بہتری اور اپ گریڈیشن کے بعد یہ لانچ وہیکل موجودہ شکل میں کام کر رہا ہے۔ اسرو سربراہ نے کہا کہ صنعتی شعبے کے تعاون کے علاوہ اس مشن کی کامیابی کے پسِ پشت اسرو کے سائنسدانوں کا ٹیم ورک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کے اہلِ خانہ نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق اسرو مزید چھ تجربات کا ہدف لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گگنیان مشن پر بھی سرگرمی سے کام جاری ہے۔ خلا کے میدان میں اسٹارٹ اپس سے متعلق بات کرتے ہوئے اسرو کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں سازگار اور مثبت ماحول ہے۔

نارائنن نے کہا کہ جی ایس ایل وی کے ذریعے اب تک جتنے تجربات کیے گئے ہیں، ان میں ای او ایس-05 سب سے وزنی سیٹلائٹ ہے۔ اس تاریخی مشن سے وابستہ تمام سائنسدانوں اور مشن ڈائریکٹر تھامس کورین نے تجربے میں ملنے والی کامیابی کے بعد یک زبان ہو کر ’جے ہند‘ کے نعرے کے ساتھ اہلِ وطن کو مبارکباد پیش کی۔ اسرو کے عہدیدار امتیاز نے کہا:

جب حوصلہ بنا لیا اونچی اڑان کا

پھر دیکھنا فضول ہے قد آسمان کا

انہوں نے کہا کہ اس سب سے وزنی سیٹلائٹ اور پیچیدگیوں سے بھرے مشن میں پوری ٹیم نے متحد ہو کر کام کیا۔ جہاں بھی قدم ڈگمگائے اور حوصلہ کمزور پڑا، سینئر افسران نے مکمل تعاون فراہم کیا۔

ای او ایس-05 کیا ہے؟

ای او ایس-05 ایک جدید ترین ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ہے۔ اس کا بنیادی کام خلا سے زمین کی امیجنگ کرنا ہے۔ اس کا وزن تقریباً 2367 کلوگرام ہے۔ ای او ایس-05 کو خصوصی طور پر جیو سنکرونس مدار سے زمین کی امیجنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس مدار میں پہنچنے کے بعد یہ سیٹلائٹ زمین کے ایک وسیع رقبے کا بار بار مشاہدہ کر سکے گا۔ اس مشن کو این ایس آئی ایل نے ایک اسٹریٹجک صارف کے لیے وقف لانچ کے طور پر انجام دیا ہے۔ اس کے ہمراہ ہندوستان اور دیگر ممالک کے صارفین کے 18 شریکِ سفر (کو-پیسنجر) سیٹلائٹس بھی بھیجے گئے ہیں۔

جی ایس ایل وی-ایف 17 کیا ہے؟

جی ایس ایل وی-ایف 17 ہندوستان کے جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل یعنی جی ایس ایل وی کی 19ویں پرواز ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 51.7 میٹر اور لفٹ آف ماس تقریباً 420.5 ٹن ہے۔ اسے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر کے دوسرے لانچ پیڈ سے روانہ کیا گیا۔ راکٹ کے اوپری حصے پر 4 میٹر قطر والی اوجیو کمپوزٹ پے لوڈ فیئرنگ لگی ہے، جس کے اندر ای او ایس-05 کو محفوظ رکھا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande