لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر نے کرگل کے تاریخی گاؤں ہنڈرمین کا دورہ کرکے ترقیاتی منصوبے کا جائزہ لیا
لداخ, 03 ستمبر (ہ س): لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے کرگل کے تاریخی گاؤں ہنڈرمین کا دورہ کرکے اسے نمایاں سرحدی اور ثقافتی سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا۔ ایل جی سکسینہ نے کہا کہ لائن آف کنٹرول سے متصل ہ
Lg


لداخ, 03 ستمبر (ہ س): لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے کرگل کے تاریخی گاؤں ہنڈرمین کا دورہ کرکے اسے نمایاں سرحدی اور ثقافتی سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا۔

ایل جی سکسینہ نے کہا کہ لائن آف کنٹرول سے متصل ہنڈرمین اپنی منفرد تاریخ، ثقافتی ورثے اور اہم جغرافیائی محل وقوع کے باعث سیاحت کے شعبے میں وسیع امکانات رکھتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ گاؤں میں جاری ترقیاتی کام اکتوبر کے آخر تک مکمل کیے جائیں۔

دورے کے دوران انہیں ’ایل او سی اور ہنڈرمین گاؤں کے تجربے‘ منصوبے کے تحت جاری کاموں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ منصوبے میں ایل او سی نظارہ گاہ، پارکنگ، سہولیات مرکز، معلوماتی تختیاں، پیدل گزرگاہ، تزئین و آرائش، جدید بیت الخلا، کیفے، حفاظتی روشنیوں، نگرانی کے کیمروں، شمسی توانائی کے نظام، پرچم اور تصویر کشی کے مقام سمیت برقی گاڑیوں کے لیے چارجنگ مرکز کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

سکسینہ نے کہا کہ ہنڈرمین محض ایک سرحدی گاؤں نہیں بلکہ لداخ کی تاریخ، ثقافتی ورثے اور عوام کی ثابت قدمی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنڈرمین کو ملک اور دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے قابل رسائی بناتے ہوئے ایک منفرد سرحدی و ثقافتی سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینا ان کا وژن ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ سیاحت کے فروغ کا براہ راست فائدہ مقامی لوگوں کو ملنا چاہیے اور اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے چاہئیں، جبکہ گاؤں کے منفرد ثقافتی ورثے اور شناخت کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔

لیفٹیننٹ گورنر نے مقامی لوگوں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل بھی سنے اور شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی نظام کا جائزہ لیا۔ اس نظام کا مقصد قابل تجدید توانائی کے ذریعے زرعی سرگرمیوں کے لیے پانی کی دستیابی بہتر بنانا ہے۔

اس موقع پر لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل کرگل کے چیئرمین و چیف ایگزیکٹو کونسلر ڈاکٹر محمد جعفر اخون، رکن پارلیمنٹ لداخ محمد حنیف جان، مقامی کونسلر اور محکمہ سیاحت و ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande