اساتذہ کو انتخابی فائدے کے لیے تحائف اور رقم دینے کا الزام، ملازمین کو ڈیوٹی پر ظاہر کرکے سیاسی کاموں میں استعمال کرنے کی شکایت
اساتذہ کو انتخابی فائدے کے لیے تحائف اور رقم دینے کا الزام، ملازمین کو ڈیوٹی پر ظاہر کرکے سیاسی کاموں میں استعمال کرنے کی شکایت امراوتی، 24 ستمبر (ہ س)۔ آئندہ امراوتی ڈویژن اساتذہ حلقہ انتخاب کے انتخابات کے پیش نظر ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے ک
Teachers Constituency Election Gift Distribution Allegations


اساتذہ کو انتخابی فائدے کے لیے تحائف اور رقم دینے کا الزام، ملازمین کو ڈیوٹی پر ظاہر کرکے سیاسی کاموں میں استعمال کرنے کی شکایت

امراوتی، 24 ستمبر (ہ س)۔ آئندہ امراوتی ڈویژن اساتذہ حلقہ انتخاب کے انتخابات کے پیش نظر ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے تحائف اور مبینہ مالی لالچ دیے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ استاد رہنما چندرشیکھر بھویر نے یہ الزام لگاتے ہوئے متعلقہ تعلیمی ادارے کے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کو ڈیوٹی پر ظاہر کرکے سیاسی کاموں کے لیے استعمال کیے جانے کی بھی شکایت کی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی آزادانہ طور پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے جانچ کرانے اور قصوروار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے تحریری طور پر کیا ہے۔ بھویر کی شکایت کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کے احکامات جاری کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

بھویر کی شکایت کے مطابق متعلقہ تعلیمی ادارے کے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کو ڈیوٹی پر ظاہر کرکے ووٹروں تک تحائف پہنچانے اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری طلبہ کو تعلیم دینا ہے، اس لیے انہیں انتخاب سے قبل سیاسی سرگرمیوں میں استعمال کرنا تعلیمی نظام کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی مکمل جانچ کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بھویر نے اپنی شکایت میں دعویٰ کیا ہے کہ 2026 کے متوقع اساتذہ حلقہ انتخاب کے انتخابات کے پس منظر میں استاد ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے مقصد سے مختلف قسم کے تحائف اور دیگر لالچ دیے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر انتخابی عمل سے قبل ووٹروں کو اس طرح کی ترغیبات دی جاتی ہیں تو اس سے انتخابات کی شفافیت اور غیر جانب داری پر سوال پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شکایت میں سامنے آنے والے تمام الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔

شکایت میں بعض اسکولوں میں ساڑیاں اور نقد رقم تقسیم کیے جانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ شیو کرپا ہائی اسکول کے بعض اساتذہ نے اس مبینہ معاملے کی نشاندہی کی ہے۔ شکایت کے مطابق استاد ووٹروں کو متاثر کرنے کے لیے ساڑیاں اور ہر ووٹر کو 2000 روپے دیے جانے کا الزام ہے۔ ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد امراوتی اساتذہ حلقہ انتخاب کی سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی آنے کی بات کہی جارہی ہے۔

بھویر نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں صرف الزامات کی بنیاد پر کارروائی کرنے کے بجائے تمام متعلقہ افراد کے بیانات، تحائف اور رقم کی مبینہ تقسیم سے متعلق معلومات اور ملازمین کی ڈیوٹی سے متعلق ریکارڈ کی جانچ کی جائے۔ ان کے مطابق اگر تعلیمی ادارے کے ملازمین کو انتخابی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے تو اس کی ذمہ داری طے کی جانی چاہیے۔

تاہم ان تمام الزامات کی حقیقت سرکاری تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ اس وقت شکایت میں عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ متعلقہ تعلیمی ادارے یا دیگر فریقوں کی جانب سے ان الزامات پر سرکاری وضاحت سامنے آنے کی صورت میں معاملے کی مزید تصویر واضح ہوسکتی ہے۔ اساتذہ حلقہ انتخاب کے آئندہ انتخابات کے پیش نظر اس معاملے کی تحقیقات اور اس کے نتائج اہم قرار دیے جارہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande