زبانیں ایک دوسرے کی حریف نہیں، معاون ہیں : پروفیسر سید علیم اشرف جائسی
قومی اردو کونسل کے ذریعے اردو اور ہندوستانی زبانوں کے رشتوں کے استحکام کی کوششیں جاری رہیں گی: ڈاکٹر محمد شمس اقبال قومی اردو کونسل اور مانو حیدرآباد کے باہمی اشتراک سے منعقدہ دو روزہ قومی سمینار اختتام پذیر حیدرآباد/نئی دہلی24ستمبر (ہ س )۔ سی
زبانیں ایک دوسرے کی حریف نہیں، معاون ہیں : پروفیسر سید علیم اشرف جائسی


قومی اردو کونسل کے ذریعے اردو اور ہندوستانی زبانوں کے رشتوں کے استحکام کی کوششیں جاری رہیں گی: ڈاکٹر محمد شمس اقبال

قومی اردو کونسل اور مانو حیدرآباد کے باہمی اشتراک سے منعقدہ دو روزہ قومی سمینار اختتام پذیر

حیدرآباد/نئی دہلی24ستمبر (ہ س )۔

سی پی ڈی یو ایم ٹی آڈیٹوریم میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے باہمی اشتراک سے منعقدہ دو روزہ قومی سمینار بعنوان ’اردو اور دیگر ہندوستانی زبانیں: لسانی، ادبی و ثقافتی روابط‘ کے دوسرے دن تین تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں مقالہ نگاروں نے موضوع سے متعلق مختلف مقالات پیش کیے۔

سمینار کے چوتھے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر سید محمود کاظمی اور پروفیسر فضل اللہ مکرم نے کی۔ اس میں پروفیسر فہیم الدین احمد، پروفیسر افتخار احمد، ڈاکٹر اجے مالویہ (آن لائن) اور محترمہ عصمت فاطمہ نے اپنے مقالات پیش کیے۔

پروفیسر فضل اللہ مکرم نے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ زبانیں اخذ و استفادہ سے ہی ترقی پاتی ہیں۔ اگر کسی بھی زبان نے اس عمل کو عملی طور پر نہیں برتا تو وہ تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اردو زبان کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ اس نے لین دین کے عمل کو مسلسل جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ زبان تہذیبوں کے تنوع کو بھی واضح کرتی ہے۔ پروفیسر سید محمود کاظمی نے صدارتی خطاب میں سیشن کے تمام مقالات پر گفتگو کرتے ہوئے اردو الفاظ کے تہذیبی، ثقافتی اور لسانی پہلوو¿ں پر روشنی ڈالی اور ترجمہ نگاری کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے اس کے بنیادی نکات کی طرف بھی مفید اشارے کیے۔ اس تکنیکی اجلاس میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر صبا خاتون نے انجام دیے۔

پانچویں تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر محمد نسیم الدین فریس نے کی۔ اس سیشن میں پروفیسر سید سجاد حسین، پروفیسر وبھا شرما اور ڈاکٹر شاکر رضا نے اپنے مقالات پیش کیے۔

صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد نسیم الدین فریس نے سیشن کے مقالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لسانی لین دین زبانوں کی خصوصیت ہوتی ہے۔ الفاظ مسافر ہوتے ہیں، لیکن زبانوں کے درمیان ان کی کوئی نہ کوئی منزل ضرور ہوتی ہے۔ اردو زبان کے تنوع کے پیش نظر اس کو کسی دائرے میں محصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس تکنیکی اجلاس میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر جرار احمد نے انجام دیے۔

چھٹے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر شہاب ظفر اعظمی اور پروفیسر رضاءاللہ خان نے کی۔ اس میں پروفیسر ابو شہیم خان، پروفیسر آمنہ تحسین، ڈاکٹر محمد جابر اور ڈاکٹر انوپما پال (آن لائن) نے اپنے مقالات پیش کیے۔

صدارتی خطاب میں پروفیسر شہاب ظفر اعظمی نے سمینار کے موضوع کی اہمیت اور اس کے عملی تنوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کشمیر سے کنیا کماری تک جو محاورے ہم بولتے ہیں، یہ سمینار تنوع کی وجہ سے اس کی عمدہ مثال ہے۔ پروفیسر رضا ءاللہ خان نے اپنے صدارتی خطاب میں اردو اور دیگر زبانوں کے حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کے تناظر میں گفتگو کی اور کہا کہ زبانوں کے بنیادی تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تقاضوں، بالخصوص مصنوعی ذہانت کے چیلنجز کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔

اس تکنیکی اجلاس کے فوراً بعد اختتامی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت پروفیسر سید علیم اشرف جائسی (پروفیسر ایمریطس، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد و کنوینر سمینار) نے کی اور کلماتِ تشکر ڈاکٹر محمد شمس اقبال (ڈائرکٹر ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی) نے پیش کیے۔

اس میں پروفیسر مہ جبین غزال (میسور)، پروفیسر مشتاق عالم قادری (شعبہ¿ اردو، دہلی یونیورسٹی) اور محمد سلمان (ریسرچ اسکالر، مانو، حیدرآباد) نے دو روزہ سمینار کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کیے۔ انھوں نے سمینار کے موضوع کی اہمیت اور اس میں پیش کیے گئے مقالات کے تنوع پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ اس معنی میں وسعتِ فکر و نظر کے اعتبار سے یہ سمینار بہت ہی کامیاب اور معنی خیز رہا۔ ساتھ ہی گذشتہ ڈھائی برسوں میں قومی اردو کونسل کی جو سرگرمیاں رہی ہیں، انھوں نے ان کو بھی سراہا۔ پروفیسر علیم اشرف جائسی نے زبانوں کے لسانی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی پہلوو¿ں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ زبانوں کے الفاظ کے درمیان لین دین کے عمل سے تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، جس کا صحیح اندازہ لسانی پہلوو¿ں کو پیش نظر رکھے بغیر ممکن نہیں۔ اس سمینار کے لیے موضوع کے انتخاب میں یہی فکر کارفرما رہی۔

ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سمینار کے موضوع کے تعلق سے ہماری جو سوچ تھی، اس اعتبار سے سمینار کامیاب رہا۔ اس میں مقالہ نگاروں نے معنی خیز گفتگو کی۔ انھوں نے زبانوں کے حوالے سے قومی اردو کونسل کے ذریعے گذشتہ ڈھائی برسوں میں منعقد کیے گئے سمینارز اور پروگراموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کونسل نے اردو زبان کے فروغ کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے قومی اہداف و مسائل سے جوڑنے کی کوشیس کی ہے اور ہم نے اردو اور ہندوستانی زبانوں کے باہمی رشتوں کے ساتھ وکست بھارت کی تعمیر اور نئی تعلیمی پالیسی 2020 سے جڑے مختلف پہلوو¿ں کو اردو زبان سے مربوط کر کے کئی اہم اور کامیاب سیمینارز، مذاکرے اور پینل ڈسکشنز کا اہتمام کیا ہے ۔

آخر میں انہوں نے نے اس سمینار کے انعقاد میں معاون ادارے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اس کے ذمے داران اور سمینار میں شرکت کرنے والے تمام اہل علم و دانش اور اساتذہ و طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔آخری تکنیکی اجلاس اور اختتامی اجلاس کی نظامت کے فرائض جناب نایاب حسن نے انجام دیے۔

شام میں ’بزم سخن‘ کے عنوان سے مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر سید عین الحسن(وائس چانسلر،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد) نے کی۔جس میں جناب مصحف اقبال توصیفی،ڈاکٹر محسن جلگانوی،جناب سردار سلیم،جناب محبوب خان اصغر،پروفیسر مہ جبیں نجم غزال،جناب سیف نظامی،پروفیسر شیخ وسیم،پروفیسر افتخار احمد،شریف اطہر اور شیخ احمد ضیا نے اپنے کلام پیش کیے اور سامعین کو محظوظ کیا۔مشاعرہ کی نظامت پروفیسر محمد عبد السمیع صدیقی نے کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande