
لیہہ تشدد کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر لیہہ و دیگر علاقوں میں مکمل بند رہا
جموں، 24 ستمبر (ہ س)۔ لداخ میں گزشتہ سال 24 ستمبر کو احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد کی پہلی برسی کے موقع پر لیہہ، کرگل اور دیگر علاقوں میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم رہی اور معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔ اس موقع پر لیہہ اور کرگل میں گزشتہ سال کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں تعزیتی و یادگاری پروگرام منعقد کیے گئے اور بعض حلقوں کی جانب سے 24 ستمبر کو ’یومِ شہدا‘ کے طور پر منایا گیا۔
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے لیہہ میں علامتی پیدل مارچ کی قیادت کی۔ مارچ میں لیہہ ایپکس باڈی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ منتظمین کے مطابق موسم کی خراب صورتحال کے باعث مارچ مختصر کر دیا گیا اور شرکا نے تقریباً 20 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے شام 7 بجے کے قریب شہید میموریل پارک پہنچ کر ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سونم وانگچک نے 24 ستمبر کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کی رپورٹ جلد منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں فائرنگ کے حالات، فائرنگ کے احکامات اور مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر خودکار ہتھیاروں کے استعمال سمیت تشدد شروع ہونے کے اسباب کا تعین کیا جانا چاہیے۔
ادھر لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے گزشتہ سال کے تشدد سے متعلق درج مقدمات میں نامزد 20 افراد کے خلاف مقدمات واپس لینے کی منظوری دی ہے۔
واضح رہے کہ لداخ کے لیے ریاستی حیثیت اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت تحفظات کے مطالبے پر ہونے والا احتجاج 24 ستمبر 2025 کو پرتشدد ہوگیا تھا، جس میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد لداخ انتظامیہ نے عدالتی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر