سیلاب کے بندوبست کے لیے مستقل حل کی سمت میں لائحۂ عمل بنا کر کام کرنا ہے: وزیر اعلیٰ
پٹنہ، 24 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی صدارت میں آج گنگا، گنڈک اور کوسی ندی پروجیکٹ، بکسر-بھاگلپور گرین فیلڈ ایکسپریس وے پروجیکٹ، 2400 (3x800) میگاواٹ پیرپینتی پلانٹ اور پی ایم کسم اسکیم سے متعلق اہم منصوبوں کی جائزہ میٹنگ ہوئی۔ میٹ
وزیر اعلیٰ گنگا، گنڈک اور کوسی ندی پروجیکٹ، بکسر-بھاگلپور گرین فیلڈ ایکسپریس وے پروجیکٹ، 2400 (3x800) میگاواٹ پیرپینتی پلانٹ نیز پی ایم کسم اسکیم سے متعلق اہم پروجیکٹوں کی جائزہ میٹنگ کرتے ہوئے


پٹنہ، 24 ستمبر (ہ س)۔

وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی صدارت میں آج گنگا، گنڈک اور کوسی ندی پروجیکٹ، بکسر-بھاگلپور گرین فیلڈ ایکسپریس وے پروجیکٹ، 2400 (3x800) میگاواٹ پیرپینتی پلانٹ اور پی ایم کسم اسکیم سے متعلق اہم منصوبوں کی جائزہ میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیلاب کے بندوبست کو لے کر مستقل حل کی سمت میں لائحۂ عمل تیار کر کے کام کرنا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گنگا ندی، کوسی ندی اور گنڈک ندی کو منظم کرنا ہے۔ ان کے دونوں طرف پشتوں کو مضبوط بناتے ہوئے ان پر فور لین سڑک تعمیر کرنی ہے۔ گنگا ندی، کوسی ندی اور گنڈک ندی کے علاقوں میں سیلاب متاثرین کو مستقل راحت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس خطے کو خوشحال علاقہ بنانا ہے۔ کوسی علاقے کے ابتدائی 100 کلومیٹر جو خصوصی ڈینجر زون ہیں، اس پر ڈبل شیٹ پائلنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ندیوں سے گاد (سلٹ) نکالنے سے پانی کو جمع کرنے اور اس کے بہاو کی صلاحیت بھی متوازن رہے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے پروجیکٹوں کی باقاعدہ نگرانی، باہمی تال میل اور وقت کے اندر نفاذ کو یقینی بنائیں، تاکہ ریاست میں آبی وسائل، سڑک کے رابطے اور توانائی کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

کوسی ندی نظام کے جائزے کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوسی ایک متحرک اور باہم جڑا ہوا ندی نظام ہے۔ اس کے بندوبست کے لیے محض سالانہ سیلابی ردِعمل تک محدود رہنے کے بجائے طویل مدتی سیلابی خطرات میں کمی کی حکمتِ عملی کے تحت کام کیا جائے۔ انہوں نے کوسی کے علاقے کو عوام، املاک اور رابطے سے وابستہ کثیر ضلع ندی راہداری کے طور پر دیکھتے ہوئے ہمہ جہت نقطۂ نظر اپنانے کی ہدایت دی۔

محکمہ تعمیراتِ سڑک کے جائزے کے دوران بکسر-بھاگلپور 6-لین گرین فیلڈ ایکسپریس وے کی پیش رفت پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس پروجیکٹ کی کل لمبائی 348.196 کلومیٹر ہے، جس میں 336.205 کلومیٹر بہار اور تقریباً 12 کلومیٹر اتر پردیش میں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس کے علاوہ گنگا-امبیکا پتھ (بیدوپور-دگھوارا)، نارائنی پتھ (دریہارا-ڈمریا گھاٹ) اور وشوامتر پتھ (بکسر-آرا-منیر) سے متعلق پروجیکٹوں کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو پروجیکٹوں کے نفاذ میں تیزی لانے اور مقررہ مدت کی پاسداری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔

محکمہ توانائی کے جائزے کے دوران پیرپینتی تھرمل پاور پروجیکٹ کی پیش رفت پر گفتگو ہوئی۔ اس پروجیکٹ کی صلاحیت 3X800 میگاواٹ ہے۔ اس کے ساتھ ہی بانکا تھرمل پاور پلانٹ سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے پی ایم-کسم اسکیم کے تحت زرعی فیڈرز کی سولرائزیشن کی پیش رفت کی معلومات حاصل کیں اور اسے تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو وافر اور قابل اعتماد بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینا لازمی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سرکاری ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی سے چلانے کی سمت میں بھی تیز رفتاری سے کام کرنے کی ہدایت دی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande