ایس آئی آر کو لے کر کانگریس نے الیکشن کمیشن پر اٹھائے سوال، کھرگے نے مانگا جواب
نئی دہلی، 23 ستمبر (ہ س):۔ ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کے اندر دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے مبینہ طور پر بار بار اعتراضات درج کرائے جانے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کانگریس نے الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے
ایس آئی آر کو لے کر کانگریس نے الیکشن کمیشن پر اٹھائے سوال، کھرگے نے مانگا جواب


نئی دہلی، 23 ستمبر (ہ س):۔

ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کے اندر دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے مبینہ طور پر بار بار اعتراضات درج کرائے جانے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کانگریس نے الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سمیت کانگریس رہنماو¿ں نے الگ الگ ردعمل میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار، ووٹر فہرست میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے اور ایس آئی آر کے عمل سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ کانگریس اور کئی اپوزیشن جماعتیں گزشتہ کئی برسوں سے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ مسائل اٹھائے گئے تو انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اب الیکشن کمیشن کے اندر سے سامنے آنے والی معلومات میں دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے 14 مرتبہ اعتراضات درج کرائے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔

کھرگے نے فارم-6 میں تبدیلی، سافٹ ویئر کے استعمال، ووٹر فہرست اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں میں شفافیت کے حوالے سے سوال اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے پہلے تین مراحل میں 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مسودہ ووٹر فہرستوں سے 13.8 کروڑ نام خارج کیے گئے ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ووٹر فہرست میں مبینہ ’ووٹ چوری‘ بھارتی شہریوں کے خلاف جرم اور آئین پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن نے اس میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں انصاف ہونا چاہیے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک شخص دیگر آئینی عہدیداروں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایسے فیصلے کر سکتا ہے جن سے ووٹر فہرست متاثر ہوتی ہے تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اسے متاثر کرنے والے کسی بھی عمل میں مکمل شفافیت اور مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل ہونا چاہیے۔

کانگریس رہنما پون کھیڑا نے ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایس آئی آر سے متعلق فیصلے تین رکنی الیکشن کمیشن کے دو الیکشن کمشنروں کی معلومات یا منظوری کے بغیر لیے گئے ہیں، جبکہ کمیشن کو اتفاق رائے یا اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کرنے ہوتے ہیں، تو ایسے فیصلوں اور پورے ایس آئی آر عمل کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے۔ اب الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے سامنے ان سوالات کا جواب دینے کا چیلنج ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایک انگریزی اخبار میں 23 ستمبر کو شائع رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور احکامات پر تحریری اعتراض درج کرائے۔ دونوں الیکشن کمشنروں کے اعتراضات چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی بھیجے گئے تھے۔

یہ اعتراضات نئے ووٹروں کے رجسٹریشن، ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے اور دوبارہ شامل کرنے، ایس آئی آر سے متعلق معاملات میں اپیل دائر کرنے، نیز ووٹر فہرست کے ڈیٹا بیس کی سکیورٹی اور اس کے آپریشن سے متعلق مسائل پر تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande