
ہریدوار، 21 ستمبر (ہ س)۔ انسانوں کی طرح پرندوں میں بھی گیت کے ذریعے ساتھی کو اپنی طرف راغب کرنے کا شاندار ہنر موجود ہے۔ کوئل اس کی بہترین مثال ہے۔ جیسے ہی مانسون کا موسم اختتام پذیر ہوا ہے، کوئل کی سریلی کوہو-کوہو کی آواز خاموش ہو گئی ہے۔ سیاہ رنگ کے نر کوئل نے اپنی سریلی آواز کا استعمال کرتے ہوئے چتکبری مادہ کو ملاپ کے لیے راغب کیا اور پھر اسے انڈے دینے کے لیے کوے کے گھونسلے تک رہنمائی کی۔
ہریدوار کی گروکل کانگڑی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور بین الاقوامی ماہرِ پرندگان ڈاکٹر دنیش چندر بھٹ نے وضاحت کی کہ نہ صرف کوئل بلکہ ہمالیائی کوئل، چاٹک اور پپیہا جیسے پرندوں نے بھی اپنی مخصوص آوازیں—جیسے پی کہاں... پی کہاں اور کفل پاکو... کفل پاکو—نکالنا بند کر دیا ہے کیونکہ ان کی افزائشِ نسل کا موسم ختم ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر بھٹ نے نشاندہی کی کہ اگرچہ انسانی تہذیب میں گانے کی روایت نسبتاً حال ہی میں پروان چڑھی، لیکن قدرت نے پرندوں کو لاکھوں سال قبل ہی محبت کے گیتوں کا تحفہ عطا کر دیا تھا۔
مادہ کوئل کوے کو چکمہ دے کر اپنے بچوں کی پرورش اس سے کرواتی ہے
ڈاکٹر بھٹ بتاتے ہیں کہ سائنس میں اسے پیراسائٹک بریڈنگ یا پرائی نسل پالنے پر مجبور کرنے کا عمل کہا جاتا ہے۔ اگرچہ کوئل کا گیت سریلا ہوتا ہے، لیکن اس کا رویہ مکارانہ اور دھوکے پر مبنی ہوتا ہے۔ مادہ کوئل کبھی اپنا گھونسلہ نہیں بناتی؛ اس کے بجائے، وہ چپکے سے کوے کے گھونسلے پر نظر رکھتی ہے۔ جیسے ہی کوا گھونسلے سے باہر جاتا ہے، مادہ کوئل تیزی سے اپنا ایک انڈا وہاں رکھ دیتی ہے اور اکثر اس عمل کے دوران کوے کے انڈوں میں سے ایک انڈا نیچے گرا کر ضائع کر دیتی ہے۔
اس کے بعد، بے خبر کوا کوئل کے انڈے پر بیٹھ کر اسے گرمائش دیتا ہے (انڈا سیتا ہے)، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اسی کا اپنا انڈا ہے۔ یہاں تک کہ چوزہ نکلنے کے بعد بھی، کوا اسے اپنے بچوں کے ساتھ ہی پالتا ہے۔ کوئل کا چوزہ جسامت میں بڑا ہوتا ہے اور اسے بہت زیادہ بھوک لگتی ہے؛ وہ زیادہ خوراک کا مطالبہ کرتا ہے اور اکثر کوے کے اپنے بچوں کو گھونسلے سے باہر دھکیل بھی دیتا ہے۔ کوا دن رات انتھک محنت کر کے کیڑے مکوڑے لاتا ہے اور اس سوتیلے چوزے کو کھلاتا ہے، جبکہ اس کی اصل ماں — یعنی کوئل — دور سے یہ سارا عمل دیکھتی رہتی ہے۔ بڑا ہونے پر، یہ چوزہ کوے کا ساتھ چھوڑ کر اپنی ہی نوع میں واپس چلا جاتا ہے۔
یہ معلومات فراہم کرنے والے پروفیسر دنیش چندر بھٹ، ہریدوار کی گروکل کانگڑی یونیورسٹی کے شعبہ حیوانیات اور ماحولیاتی سائنس میں بطور پروفیسر اور فیکلٹی ڈین خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ فی الحال اعزازی پروفیسر ہیں اور انہوں نے 'ایوین ڈائیورسٹی اینڈ بائیو اکوسٹکس لیبارٹری' قائم کی ہے۔
وہ پرندوں کے مطالعے کے ماہر کی حیثیت سے بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں۔ پرندوں کی آوازوں، افزائشِ نسل کے رویوں اور حیاتیاتی تنوع پر ان کے درجنوں تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔ وہ 'انٹرنیشنل آرنیتھولوجیکل کانگریس' اور 'ورلڈ کونسل آن برڈ کمیونیکیشن' کی 12 رکنی سائنسی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ہجرت کرنے والے پرندوں اور انسانوں و جنگلی حیات کے مابین تصادم پر ان کی تحقیق آج بھی جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی