
نئی دہلی، 21 ستمبر(ہ س)۔ دہلی پولیس نے فرضی ایس ایم ایس کے ذریعے لنک بھیج کر موبائل فون میں اے پی کے انسٹال کرانے اور بینکنگ کی معلومات حاصل کرکے سائبر فراڈ کرنے کے الزام میں احمد آباد سے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے ملزم سے 11 کریڈٹ کارڈ اور تین موبائل فون برآمد کیے ہیں۔پولیس کے مطابق ملزم نے سائبرفراڈکرکے ایک شخص سے 6.57 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کی تھی۔ تفتیش کے دوران پولیس نے چوری شدہ رقم میں سے تقریبا چار لاکھ روپے کے لین دین کا انکشاف کیا ہے۔ یہ رقم مختلف کریڈٹ کارڈز اور بینکنگ چینلز کے ذریعے منتقل کی گئی تھی۔ شکایت وکاس کمار نے درج کرائی تھی۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ اسے ایک ایس ایم ایس موصول ہوا ، جس میں ایک لنک فراہم کیا گیا تھا۔ لنک پر جانے کے بعد، ان سے 6,57,715 روپے کی دھوکہ دہی کی گئی۔ شکایت کی بنیاد پر 21 مئی کو سائبر ساو¿تھ پولیس اسٹیشن میں ای-ایف آئی آر نمبر 309/2026درج کیا گیا اور تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 318 (4) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور تفتیش شروع کی گئی۔پولیس نے بینک کھاتوں، لین دین اور تکنیکی شواہد کا تجزیہ کیا۔ اس دوران فراڈ شدہ رقم میں سے تقریبا چار لاکھ روپے کے دو لین دین کا پتہ چلا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ رقم کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بھیجی جا رہی تھی۔ اس کے بعد پولیس کی ٹیم نے احمد آباد میں چھاپے مارے اور محمد اسماعیل انصاری، شیخ محمد نورین اورطارق احمد کو گرفتار کیا۔پولیس کے مطابق احمد آباد کا رہائشی محمد اسماعیل انصاری آئی ڈی بی آئی بینک کا کنٹریکٹ ملازم ہے۔ اس پر دھوکہ دہی کی رقم کو آگے بڑھانے کے لیے متعدد کریڈٹ کارڈ فراہم کرنے کا الزام ہے۔ شیخ محمد نورین اور طارق احمد پر کمیشن کے بدلے مبینہ طور پر کریڈٹ کارڈ فراہم کرنے اور دھوکہ دہی کی رقم کو آگے بڑھانے میں مدد کرنے کا بھی الزام ہے۔تحقیقات کے مطابق یہ گینگ فرضی پیغامات کے ذریعے لوگوں کو اے پی کے فائلیں انسٹال کرنے کے لیے اکساتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بدنیتی پر مبنی ایپس بینکنگ اور دیگر حساس معلومات تک رسائی کے لیے موبائل تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔پولیس کے مطابق دھوکہ دہی کے بعد یہ رقم مزید مختلف کریڈٹ کارڈز اور بینکنگ چینلز کے ذریعے منتقل کی گئی اور بدلے میں متعلقہ لوگوں کو کمیشن ادا کیا گیا۔تفتیش اور تکنیکی تحقیقات میں ملزم کے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کے کئی گروپوں سے روابط کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کو کچھ وہاٹس ایپ نمبر بھی ملے ہیں جن کے امریکہ سے منسلک ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ دھوکہ دہی کی رقم کو مزید یو ایس ڈی ٹی میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ تاہم، مبینہ غیر ملکی ہینڈلرز کی اصل شناخت اور ان کے کردار کا پتہ لگانا ابھی باقی ہے۔پولیس نے کہا کہ بین الاقوامی نیٹ ورک اور اس معاملے میں فراڈ شدہ رقم کے پورے ٹرانزیکشن کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ تفتیشی ٹیم سب انسپکٹر راج کمار سنگھ، ہیڈ کانسٹیبل سنیل کمار بیروا اور ہیڈ کانسٹیبل راج کمار بیروا پر مشتمل تھی۔ ٹیم کی قیادت سائبر ساوتھ پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاوس آفیسر انسپکٹر ہنس راج سوامی نے کی جبکہ تفتیش اے سی پی/آپریشنز بلرام سنگھ بینیوال کی نگرانی میں کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی