
جموں, 20 ستمبر (ہ س): جموں کے نروال، بٹھنڈی اور سنجواں میں روہنگیا بستیوں کے خلاف کارروائی کے بعد انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں کے سامنے اب ان خاندانوں کے نئے ٹھکانوں کا پتہ لگانے کا چیلنج درپیش ہے۔ اطلاعات کے مطابق نروال سے ہٹائے جانے کے بعد بعض خاندان جموں شہر کے مختلف علاقوں میں کرائے کے کمروں کی تلاش کر رہے ہیں۔بٹھنڈی کے بالائی جنگلات میں بھی بعض خاندانوں کے عارضی طور پر رہائش اختیار کرنے کی کوشش کی اطلاع ملی تھی، جنہیں انتظامیہ نے وہاں سے ہٹا دیا۔ حکام کی توجہ اب خالی کرائی گئی بستیوں کے بجائے ممکنہ نئے ٹھکانوں کی نشاندہی اور وہاں رہنے والے غیر ملکی شہریوں کی دستاویزات کی تصدیق پر مرکوز ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہی مقام پر موجود بستی کے مقابلے میں مختلف علاقوں میں چھوٹے گروپوں کی شکل میں منتقل ہونے والے افراد کی شناخت اور نگرانی سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے زیادہ مشکل ہوسکتی ہے۔ پولیس نے مکان مالکان کو بغیر تصدیق غیر ملکی شہریوں کو کرائے پر مکان فراہم کرنے کے حوالے سے انتباہ دیا ہے۔نروال میں کارروائی کے بعد ان افراد کو زمین یا رہائش فراہم کرنے والے مقامی لوگوں کا کردار بھی جانچ کے دائرے میں آگیا ہے۔ بھلوال میں تقریباً 50 خاندانوں کے قیام اور زمین مالکان کی جانب سے مبینہ طور پر زمین، پانی اور بجلی کے عوض کرایہ وصول کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
حکام اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ ایک علاقے سے ہٹائے جانے کے بعد انہیں دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے کے لیے کوئی مقامی نیٹ ورک سرگرم تو نہیں ہے۔
تاہم کسی منظم سازش کی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق غیر ملکی شہریوں کے داخلے، قیام، آمدورفت اور شناخت سے متعلق قانونی دفعات فارن ایکٹ 2025 اور اس سے متعلقہ قواعد کے تحت نافذ ہیں۔ اگر کسی غیر ملکی شہری کو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹھہرانے یا اس سے متعلق معلومات چھپانے کا معاملہ سامنے آتا ہے تو متعلقہ شخص کے خلاف قابل اطلاق قانونی دفعات کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر