
پونے، 20 ستمبر (ہ س) پونے پولیس نے کیتن اگروال قتل معاملے میں 5053 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں سیا گوئل، چیتن چودھری اور ریتیش ہانگے کو ملزم بنایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق چارج شیٹ میں کیتن کے قتل سے پہلے کی مبینہ منصوبہ بندی، پہاڑی علاقوں کی ریکی، فرضی انسٹاگرام اکاؤنٹ بنانے، اسے لوہ گڑھ لانے کے لیے تیار کی گئی حکمت عملی اور اس کی موت کو حادثاتی طور پر پیش کرنے کی مبینہ کوششوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ تفتیش کے مطابق ابتدا میں کیتن کو شدید زخمی کرکے معذور کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن بعد میں مبینہ طور پر اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے مہاراشٹر سے باہر کے کچھ افراد سے بھی رابطہ کیا تھا، تاہم بعد میں بیرونی شخص کو شامل کرنے کا منصوبہ ترک کردیا گیا اور مبینہ طور پر تینوں نے خود کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان افراد میں سے ایک بعد میں اس معاملے میں گواہ بن گیا۔
چارج شیٹ کے مطابق جرم کی مبینہ منصوبہ بندی کے دوران ملزمان نے قتل سے متعلق فلمیں اور پولیس سے بچنے کے طریقوں پر مبنی پوڈکاسٹ دیکھے اور سنے۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ منصوبہ بندی کے دوران چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا گیا اور میگھالیہ میں سونم سے متعلق بڑے پیمانے پر رپورٹ ہونے والے قتل کے معاملے کا بھی مطالعہ کیا گیا۔ تفتیش کے مطابق اس کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ قتل کو کس طرح انجام دے کر بعد میں اسے حادثہ ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد مبینہ طور پر ایسے مقام کی تلاش شروع کی گئی جہاں کسی شخص کے پہاڑ سے گرنے کی صورت میں موت کو حادثہ قرار دینا ممکن ہو۔ مئی کے آخر میں سیا گوئل اور چیتن چودھری نے لوناوالا کے مختلف پہاڑی مقامات کی ریکی کی۔ وہ ٹائیگر پوائنٹ سمیت کئی مقامات پر گئے اور مبینہ طور پر سی سی ٹی وی کی موجودگی یا عدم موجودگی کا جائزہ لیا۔ بعد میں لوہ گڑھ کو منتخب کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر مارچ 2026 میں لوہ گڑھ میں ایک خاتون کی موت کے واقعے کو بھی اپنے منصوبے سے جوڑا اور یہ خیال کیا کہ کیتن کے پہاڑ سے گرنے کو بھی حادثہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق 4 جون کو سیا نے کیتن کے ساتھ لوہ گڑھ جانے پر اصرار کیا تھا اور مبینہ مقصد اسے بالی جانے سے پہلے قتل کرنا تھا۔ دونوں کی 6 جون کو شادی سے پہلے فوٹو شوٹ کے لیے بالی روانگی طے تھی، لیکن پولیس کا الزام ہے کہ سفر کے دوران سیا نے کیتن کا پاسپورٹ پھاڑ کر کھالوپور کے ایک کیفے کے واش روم میں پھینک دیا، جس کے باعث بالی کا سفر نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد 14 جون کو سیا اور کیتن مبینہ طور پر لوہ گڑھ گئے، جہاں پولیس کے مطابق سیا نے کیتن کو پہاڑ سے دھکیلنے کی کوشش کی، لیکن وہ گرنے سے بچ گیا۔ اس کے بعد مبینہ طور پر قریب سانپ ہونے کا جھوٹا شور مچا کر اسے خوفزدہ یا پریشان کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ کوشش بھی ناکام رہی۔
تفتیش کے مطابق بعد میں فرضی انسٹاگرام اکاؤنٹ بنایا گیا، جس کا نام مہی رکھا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس اکاؤنٹ میں ایک جان پہچان کی لڑکی کی تصویر استعمال کی گئی اور اسے سیا کی دوست کے طور پر ظاہر کیا گیا۔ 18 جون کو مبینہ طور پر اسی اکاؤنٹ سے کیتن سے رابطہ کیا گیا اور اسے سیا کو ساتھ لے کر لوہ گڑھ آنے کے لیے کہا گیا، جہاں اس کی سالگرہ کا سرپرائز منانے کی بات کی گئی۔ پولیس کا الزام ہے کہ یہ منصوبہ ریتیش ہانگے نے تیار اور مربوط کیا تھا تاکہ کیتن کو کسی شک کے بغیر لوہ گڑھ لایا جا سکے۔ پولیس کے مطابق آخری کارروائی کے دوران چیتن چودھری الگ راستے سے لوہ گڑھ پہنچا اور قلعے کے ایک مندر تک گیا، جہاں سیا نے اسے طے شدہ مقام کی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ تفتیش کے مطابق کیتن کی توجہ دوسری جانب ہونے کے دوران سیا نے اسے پیچھے سے کندھے کے قریب دھکا دیا جبکہ چیتن نے اس کی ٹانگ کے قریب دھکا دیا۔ پولیس کا مزید الزام ہے کہ چیتن نے کیتن کو لات بھی ماری، جس کے نتیجے میں وہ پہاڑ سے نیچے گر گیا اور اس کی موت ہوگئی۔
پولیس کے مطابق ریتیش ہانگے پر مبینہ سازش کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کا الزام ہے، جبکہ سیا اور چیتن پر مبینہ طور پر آخری کارروائی کرنے کا الزام ہے۔ اس معاملے میں 5 عینی شاہدین کے علاوہ دیگر گواہوں کے بیانات اور تکنیکی شواہد بھی جمع کیے گئے ہیں۔ 5053 صفحات کی چارج شیٹ میں پولیس نے معاملے کو اچانک پیش آنے والے تشدد کے بجائے کئی مراحل پر مشتمل مبینہ سازش قرار دیا ہے، جس میں کیتن کو زخمی کرنے کی ابتدائی منصوبہ بندی، قتل کا فیصلہ، مقام کی ریکی، فرضی ڈیجیٹل شناخت کے ذریعے اسے لوہ گڑھ لانے کی کوشش اور موت کو حادثہ ظاہر کرنے کی مبینہ تیاری شامل ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے