حوثیوں کا سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون سے حملہ
ریاض، 20 ستمبر (ہ س)۔ ایران نواز یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں کئی حساس مقامات پر حملے کیے ہیں۔ ان میں دارالحکومت ریاض اور ینبع بندرگاہی شہر میں واقع آرامکو کی تیل تنصیبات شامل ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض کی س
سعودی عرب کا دارالحکومت ریاض۔ فوٹو انٹرنیٹ میڈیا


ریاض، 20 ستمبر (ہ س)۔ ایران نواز یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں کئی حساس مقامات پر حملے کیے ہیں۔ ان میں دارالحکومت ریاض اور ینبع بندرگاہی شہر میں واقع آرامکو کی تیل تنصیبات شامل ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض کی سمت داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی روک دیا۔ ساتھ ہی بیش، طائف، فرسان اور ینبع پر کیے گئے دیگر حملوں کو ناکام بنا دیا۔

الجزیرہ اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں یہ جانکاری دی۔ سریع کے مطابق، سعودی عرب کے دو اہم ٹھکانوں پر بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور کروز میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حوثیوں نے مہینوں بعد کروز میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔ حوثیوں نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے سب سے قیمتی اثاثے، آرامکو آئل فیسلٹی کو نشانہ بنائیں گے۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ہفتہ کے روز کہا، ’’دارالحکومت صنعا کو نشانہ بنانے کی سعودی کوشش کے جواب میں دو کامیاب فوجی آپریشن چلائے گئے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’پہلا حملہ سعودی دارالحکومت ریاض میں حساس ٹھکانوں پر اور دوسرا ینبع میں آرامکو کی تنصیبات پر کیا گیا۔‘‘

ینبع پر حملہ انتہائی اہم ہے۔ یہ بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ہے، لیکن یمن اور سعودی عرب کی سرحد سے تقریباً 700 میل شمال میں ہے۔ ریاض بھی سرحد سے 700 میل سے زیادہ دور ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حوثی اب سعودی عرب کے کافی اندر تک گہرائی سے نشانہ بنا رہے ہیں۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ریاض پر حملے کے لیے حوثیوں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے سعودی عرب کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ مصر نے بھی کہا کہ حوثی حملہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

بحرین نے ان اقدامات کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا۔ اردن نے کہا کہ یہ حملے سعودی عرب کی سیکورٹی، استحکام اور اس کی حفاظت کے لیے خطرہ اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی ہے۔

سعودی حکام کے مطابق، رواں ماہ کے آغاز میں جنوبی سعودی عرب پر حوثی حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور توانائی سے وابستہ تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ 2022 میں اقوامِ متحدہ کی ثالثی سے طے پانے والے معاہدے کے بعد یمن میں بڑے پیمانے پر لڑائی رک گئی تھی، لیکن اب ازسرِ نو شروع ہونے والی یہ جنگ کشیدگی میں بڑے اضافے کا باعث بن گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande