قبائلی طالبات کو سرکاری بس میں سوار ہونے سے روکا ، مبینہ طور پر دھکا دیکراتارنے کے دوران آٹھ زخمی
پڈوکوٹائی، 02 ستمبر (ہ س)۔ تامل ناڈو کے پڈوکوٹائی ضلع میں ایک قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والی آٹھ اسکول کی طالبات کو مبینہ طور پر اس وقت بس سے دھکا دیکراتار دیا گیا جب وہ ایک سرکاری بس میں سوار ہونے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس واقعے میں تمام آٹھ طلبا
قبائلی طالبات کو سرکاری بس میں سوار ہونے سے روکا ، مبینہ طور پر دھکا دیکراتارنے کے دوران آٹھ زخمی


پڈوکوٹائی، 02 ستمبر (ہ س)۔ تامل ناڈو کے پڈوکوٹائی ضلع میں ایک قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والی آٹھ اسکول کی طالبات کو مبینہ طور پر اس وقت بس سے دھکا دیکراتار دیا گیا جب وہ ایک سرکاری بس میں سوار ہونے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس واقعے میں تمام آٹھ طلبا زخمی ہو گئے۔ طالبات کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی خبر پھیلتے ہی ان کے خاندانوں اور قبائلی برادری کے لوگوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ مشتعل افراد نے بس ڈرائیور اور کنڈکٹر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑک پر دھرنا دے دیا، جس سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔

پولیس کے مطابق، قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والی تقریبا آٹھ طالبات پڈوکوٹائی ضلع میں رنگمل سترام کے قریب واقع کیرانور علاقے کے ایک سرکاری اسکول میں پڑھتی ہیں۔ بدھ کو یہ تمام طالبات پڈوکوٹائی جانے کے لیے اس راستے سے گزرنے والی سرکاری بس میں سوار ہونے کی کوشش کر رہی تھیں۔ بس میں پہلے ہی بہت زیادہ ہجوم تھا۔ اس دوران کنڈکٹر نے طالبات کو بس میں سوار ہونے سے روکا اور مبینہ طور پر انہیں نیچے اترنے کو کہا۔ الزام ہے کہ اس کے بعد طلبا کو زبردستی بس سے دھکادیکراتار دیا گیا۔اس دوران اچانک گرنے سے طلبا کے ہاتھوں اور ٹانگوں پر چوٹیں آئیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی طالب علموں کے والدین اور رشتہ دار موقع پر پہنچ گئے۔ اس واقعے پر ان کی بس ڈرائیور اور کنڈکٹر کے ساتھ گرما گرم بحث ہوئی اور انہوں نے طالبات کے ساتھ ہونے والے سلوک پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ اس کے بعد اہل خانہ اور برادری کے لوگ سڑک پر بیٹھ گئے اور سڑک بند کر کے احتجاج شروع کر دیا۔ احتجاج کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔

اطلاع ملنے پر مقامی پولیس موقع پر پہنچی اور احتجاج کرنے والے لوگوں سے بات چیت کی۔ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی۔ بعد میں، تمام آٹھ زخمی طلبا کو ہنگامی ایمبولینس کی مدد سے سرکاری اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

قبائلی برادری کے لوگوں نے اس واقعے پر گہری ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی برادری میں طویل عرصے سے تعلیم کی کمی تھی اور پچھلی نسل میں کوئی بھی خواندہ نہیں تھا۔ اب لڑکوں اور لڑکیوں کی نئی نسل سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کمیونٹی کے اراکین نے بتایا کہ حال ہی میں ان کی کمیونٹی کی ایک طالبہ نے اپنی نرسنگ کی تعلیم مکمل کی ہے۔ اس کی کامیابی کو برادری کی جانب سے اس کی تعریف کے لیے تقریبات کا اہتمام کرکے منایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی برادری کے لیے فخر اور تبدیلی کی علامت ہے۔

قبائلی عوام نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ان کے بچے تعلیم حاصل کر کے اپنے مستقبل کی بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں، حکومتی نظام سے وابستہ لوگوں سے تعاون اور حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔ اس کے برعکس طالبات کے ساتھ مبینہ سلوک حیران کن ہے۔

انہوں نے معاملے کی منصفانہ تحقیقات، واقعے کے ذمہ داروں کی شناخت اور مجرموں کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیونٹی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ٹرانسپورٹ ان کے بچوں کے لیے اسکول آنے جانے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس طرح کا واقعہ ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔

پولیس موقع پر پہنچ کر واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ طلباء، ان کے اہل خانہ اور دیگر متعلقہ افراد سے موصولہ معلومات کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande