
نئی دہلی، 2 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ میں شیوسینا پارٹی اور انتخابی نشان سے متعلق جاری معاملے کی سماعت آج مکمل ہوگئی اور اب اس کیس کی اگلی سماعت 15 ستمبر کو ہوگی۔
شندے گروپ کی جانب سے وکیل نیرج کشن کول نے سپریم کورٹ میں دلائل پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شیوسینا میں 2013 میں پارٹی صدر کا عہدہ قائم کیا گیا تھا اور 2018 میں پارٹی آئین میں تبدیلی کی گئی، لیکن اس کے بعد پارٹی کے اندرونی عہدوں پر تقرریاں جمہوری طریقے سے نہیں کی گئیں۔ انہوں نے عدالت کی توجہ اس بات کی جانب بھی دلائی کہ الیکشن کمیشن وقتاً فوقتاً سیاسی جماعتوں کو اندرونی انتخابات کرانے کی ہدایات دیتا رہا ہے۔
چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی تین رکنی بنچ کے سامنے شیوسینا پارٹی اور انتخابی نشان سے متعلق معاملے کی سماعت ہوئی۔ اس سے قبل تقریباً 9 دن تک ٹھاکرے گروپ کے وکیل نے اپنے دلائل پیش کیے تھے۔ آج شندے گروپ کی جانب سے وکیل نیرج کول نے ایکناتھ شندے کا موقف پیش کرتے ہوئے خاص طور پر 2018 کے پارٹی آئین کا معاملہ اٹھایا۔
نیرج کول نے کہا کہ ان کے خلاف بنیادی طور پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ 2018 کے پارٹی آئین میں درج عہدوں میں سے ایک عہدے پر کام کر رہے تھے، لیکن یہ معاملہ ایسٹوپل کا نہیں ہے، یعنی پہلے اختیار کیے گئے موقف کی بنیاد پر اب مختلف موقف اختیار کرنے پر پابندی کا سوال نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی میں اکثریت کس کے پاس ہے، اس کا تعین کرنے کے اپنے اختیار کو الیکشن کمیشن استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین پر غور کرنے کے لیے اپنے طور پر ایک الگ اختیار کا دائرہ قائم کر لیا ہے۔ کول کے مطابق، 1994 سے الیکشن کمیشن مختلف احکامات اور خط و کتابت کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو ہدایات دیتا رہا ہے کہ ان کے پارٹی آئین جمہوری نوعیت کے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اگر کسی سیاسی جماعت میں من مانی یا غیر محدود طرز پر معاملات چلائے جائیں تو پھر یہ طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ اصل اکثریت کس کے ساتھ ہے۔ اسی مقصد سے الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو اپنے داخلی نظام کو جمہوری بنانے کی ہدایات دی تھیں۔
شندے گروپ کے وکیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں باقاعدہ انتخابات ہونے چاہئیں اور صرف ایک یا 2 افراد کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اکثریت رکھنے والے اراکین کی تقرریاں کریں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کا پارٹی آئین جمہوری اصولوں کے مطابق ہو۔ نیرج کول کے مطابق، ایک مرحلے پر شیوسینا نے خود الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا اور بتایا تھا کہ اس کے پارٹی آئین میں انتخابات سے متعلق کوئی واضح انتظام موجود نہیں ہے۔ اس وقت الیکشن کمیشن نے شیوسینا کو اس بارے میں سمجھایا، جس کے بعد پارٹی نے ایک ترمیم شدہ آئین تیار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 1999 میں الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق تیار کیے گئے پارٹی آئین نے شیوسینا کے جمہوری ڈھانچے کو واضح کیا تھا، لیکن 2018 میں اچانک ایک نیا پارٹی آئین سامنے آیا۔ شندے گروپ کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ 1999 کے پارٹی آئین کے تحت طے شدہ جمہوری نظام کو 2018 کے آئین کے ذریعے مکمل طور پر کس بنیاد پر تبدیل کردیا گیا۔ کول نے کہا کہ اس معاملے میں دوسری جانب کا بنیادی دفاع یہ ہے کہ 2018 کے پارٹی آئین کی تبدیلی کے بارے میں الیکشن کمیشن کو اطلاع دی گئی تھی۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن نے واضح طور پر کہا ہے کہ مذکورہ پارٹی آئین اس کے پاس موجود نہیں ہے اور نہ ہی یہ کبھی الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹر کیا گیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹھاکرے گروپ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ایک خط دیا گیا تھا، جس میں بعض تقرریوں کا ذکر کیا گیا تھا، لیکن اس خط کے ساتھ 2018 کا پارٹی آئین منسلک ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اسی بنیاد پر شندے گروپ نے دعویٰ کیا کہ ٹھاکرے گروپ کے اس معاملے سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں۔ سپریم کورٹ میں آج کی سماعت مکمل ہونے کے بعد شیوسینا پارٹی اور انتخابی نشان سے متعلق اس اہم معاملے کی اگلی سماعت 15 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے