لداخ میں سائبر جرائم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے
لداخ میں سائبر جرائم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جموں، 02 ستمبر (ہ س)۔ لداخ میں سائبر جرائم اور آن لائن مالی دھوکہ دہی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر انتظامیہ نے سائبر جرائم کی روک تھام اور تحقیقات کے لیے اقدامات تیز کر دیئے ہیں۔ سرکاری اعداد و ش
لداخ میں سائبر جرائم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے


لداخ میں سائبر جرائم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے

جموں، 02 ستمبر (ہ س)۔ لداخ میں سائبر جرائم اور آن لائن مالی دھوکہ دہی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر انتظامیہ نے سائبر جرائم کی روک تھام اور تحقیقات کے لیے اقدامات تیز کر دیئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2026 کے دوران لداخ میں سائبر جرائم سے متعلق 1077 شکایات موصول ہوئیں، جن میں تقریباً 10 کروڑ روپے کی مالی دھوکہ دہی شامل ہے۔ سائبر جرائم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور 2022 میں 43 واقعات کے مقابلے میں 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 366 ہو گئی۔

سائبر جرائم سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے 27 اگست کو لداخ میں مخصوص سائبر پولیس تھانہ قائم کرنے کی منظوری دی۔ اس تھانے کا دائرہ اختیار پورے مرکز کے زیر انتظام خطے تک ہوگا اور متعلقہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ وی کے سکسینہ نے کہا کہ لداخ میں برقی بینکاری، فوری ادائیگی کے نظام، برقی تجارت اور برقی حکمرانی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس لیے شہریوں کو سائبر خطرات سے محفوظ بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص سائبر پولیس تھانہ مالی دھوکہ دہی کی روک تھام، شہریوں کے تحفظ اور سائبر جرائم کی فوری تحقیقات میں اہم کردار ادا کرے گا۔

لداخ پولیس کی جانب سے بھی اہلکاروں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے 31 اگست اور یکم ستمبر کو پولیس ہیڈکوارٹر لیہہ میں دو روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں ضلعی سائبر سیل اور سائبر معاونتی مراکز کے اہلکاروں نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے دوران سائبر جرائم کی شکایات پر فوری کارروائی، قومی سائبر جرائم رپورٹنگ پورٹل، مالی دھوکہ دہی کے معاملات، رقم کی منتقلی کے سراغ، برقی ابتدائی رپورٹ کے اندراج، ڈیجیٹل شواہد اور سائبر جرائم کی تحقیقات کے مختلف طریقہ کار پر تربیت دی گئی۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سائبر فراڈ کا شکار ہونے کی صورت میں فوری طور پر 1930 پر اطلاع دیں۔ حکام کے مطابق فراڈ کے بعد ابتدائی 60 منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں اور بروقت اطلاع سے دھوکہ دہی سے ہتھیائی گئی رقم کا سراغ لگانے اور اسے واپس حاصل کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں مالیاتی اداروں اور سماجی تنظیموں کے تعاون سے عوامی بیداری مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ چچوٹ اور فیاںگ میں منعقدہ پروگراموں کے دوران طلبہ، خواتین، نوجوانوں اور دیہی نمائندوں کو محفوظ برقی لین دین، مالی منصوبہ بندی اور سائبر دھوکہ دہی کی مختلف صورتوں سے آگاہ کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande