
نئی دہلی، 2 ستمبر(ہ س)۔ معیشت کے محاذ پر اچھی خبر ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی آف جاپان (جے سی آر اے) نے ہندوستان کی ساورین ریٹنگ کو بی بی بی + سے ایک درجے بڑھا کر اے-کر دیا ہے۔ اس سے قبل جے سی آر نے ہندوستان کو 'بی بی بی +' کی درجہ بندی دی تھی۔
جاپان کی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی جے سی آر نے بدھ کے روز مستحکم صورتحال کی وجہ سے ہندوستان کی ریٹنگ کو ایک درجے سے بڑھا کر 'اے-' کر دیا۔ ایک بیان میں ایجنسی نے ہندوستان کی مضبوط اقتصادی ترقی اور مالی صحت میں بہتری کو درجہ بندی میں اپ گریڈ کے پیچھے کلیدی وجوہات قرار دیا۔
ریٹنگ ایجنسی جے سی آر نے کہا کہ 1.4 ارب سے زیادہ کی آبادی اور موجودہ قیمتوں پر 3.9 لاکھ کروڑ ڈالر کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے ساتھ ہندوستانی معیشت کے موجودہ مالی سال 2026تا2027 میں چھ فیصد سے زیادہ کی اعلی شرح نمو برقرار رکھنے کی توقع ہے۔
جے سی آر اے نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ ہندوستانی معیشت نے تقریبا سات فیصد کی اعلی شرح نمو برقرار رکھی ہے۔ اس کی حمایت مضبوط نجی کھپت اور عوامی سرمایہ کاری سے ہوتی ہے۔ حکومت ہند نے پیداواری نمو اور اقتصادی ترقی کے لیے پالیسیاں بھی نافذ کی ہیں۔ ان میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی ترقی اور گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کا نفاذ شامل ہے۔
ایجنسی نے نشاندہی کی کہ ہندوستانی حکومت نے پیداواری نمو اور اقتصادی ترقی کے لیے سازگار پالیسیاں مستقل طور پر نافذ کی ہیں۔ ان میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی ترقی اور سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کا نفاذ شامل ہے۔ اس سے ملک کی اقتصادی بنیاد پہلے ہی مضبوط ہو چکی ہے۔ جے سی آر نے غیر بینکنگ مالیاتی شعبے کی مالی حالت میں بہتری کا بھی ذکر کیا۔ اس سے حالیہ برسوں میں ہندوستان کے مالیاتی نظام کی طاقت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ ہندوستان کی ٹھوس اقتصادی ترقی، ترقی کی بنیاد رکھنے والی معاشی پالیسیوں کی کارکردگی اور مالیاتی نظام کی بہتر لچک کو دیکھتے ہوئے، جے سی آر نے ہندوستان کی غیر ملکی کرنسی اور مقامی کرنسی کے طویل مدتی جاری کنندہ کریڈٹ کو ایک درجے سے بڑھا کر 'اے-' کر دیا ہے۔
ایجنسی کی 'اے' درجہ بندی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے اعلی درجے کی یقین دہانی کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ 'بی بی بی +' کافی حد تک یقین کی نشاندہی کرتا ہے۔ گزشتہ ماہ دو عالمی ریٹنگ ایجنسیوں ایس اینڈ پی اور فچ نے بھی ہندوستان کی انویسٹمنٹ گریڈ ریٹنگ برقرار رکھی تھی۔ انہوں نے اس کی بنیاد کے طور پر ہندوستان کی متحرک اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت، پالیسی کے محاذ پر استحکام اور بنیادی ڈھانچے میں زیادہ سرمایہ کاری کا حوالہ دیاتھا۔
قابل ذکر ہے کہ مالی سال2026تا2027 کی پہلی سہ ماہی (اپریل-جون) میں ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی شرح 7.8فیصد رہی، جو ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے 7 فیصد کے تخمینے سے زیادہ ہے۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026میں بھی معیشت میں 7.8 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا تھا۔ ہندوستان کا کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ جون کی سہ ماہی میں بڑھ کر4.2 ارب ڈالر ہو گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں 3.4 ارب ڈالر تھا۔ اس کے ساتھ ہی 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں ہندوستان کے زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ 729.33 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی