
تہران/واشنگٹن/عمان/کویت سٹی/منامہ، 2 ستمبر (ہ س)۔ آبنائے ہرمز پر جاری جنگ میں ایران نے امریکی حملے کے جواب میں اردن، کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ ایران پر مزید جارحانہ حملے کیے جائیں گے۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کا دعویٰ ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کے تحت اردن میں پرنس حسن ایئر بیس اور امریکی میرین بیس پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا ہے۔
الجزیرہ، عرب نیوز، گلف نیوز اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کے درمیان دوبارہ حملے شروع ہونے کے بعد اپنے پہلے پیغام میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اس بار ایران کی فوج امریکہ کو ایسا درد دے گی، جسے وہ کبھی بھلا نہیں پائے گا۔
کویت کا کہنا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ڈرون حملوں کا فعال طور پر جواب دے رہا ہے۔ بحرین نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے ڈرونز کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ اس کی افواج نے یکم ستمبر کو ایرانی ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے۔ یہ کارروائی تجارتی بحری جہازوں اور امریکی فوجیوں پر حملوں کی کوششوں کے جواب میں کی گئی۔
اس دوران ایران کے سرکاری میڈیا نے جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی خبریں نشر کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عسلویہ، جیروفٹ، بندر عباس، قشم جزیرہ، کنارک، چابہار، جاسک، سیریک اور لاوان میں زوردار دھماکے ہوئے ہیں۔ ایران کی ریڈ کریسنٹ نے بتایا کہ سیریک کاؤنٹی کے کوہستک شہر میں شادی کے گھر پر ہوئے حملے میں ایک بچے سمیت کم از کم چار افراد ہلاک اور 50 سے زائد شہری زخمی ہوئے۔ ریڈ کریسنٹ نے ایکس پر یہ اطلاع دی۔ ایرانی حکومت نے کہا کہ امریکی حملے کے بعد شادی کا گھر مکمل طور پر منہدم ہو گیا۔ سیریک کاؤنٹی آبنائے ہرمز کے کنارے واقع ہے۔
ایرانی میڈیا نے منگل کو آبنائے ہرمز کے ساتھ اور اس کے مشرق میں واقع کئی شہروں کے علاوہ جنوبی کرمان صوبے کے ایک ہوائی اڈے پر بھی دھماکوں کی اطلاع دی۔ ایران 28 فروری سے امریکہ کے ساتھ جنگ میں ہے۔ اسی تاریخ کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی حملے میں اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور اعلیٰ فوجی افسران مارے گئے تھے۔ اس کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو نشانہ بنایا تھا۔ چند روز کی خاموشی کے بعد امریکہ نے اتوار کو ایران پر زوردار حملہ کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بھی جوابی حملے کا انتہائی سخت جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
ایران نے ٹرمپ کی دھمکی کو نظر انداز کرتے ہوئے اردن اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ آئی آر جی سی کے ترجمان حسین موحبی نے ایکس پر خبردار کیا کہ واشنگٹن کو سخت سزا دی جائے گی۔ ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے بعد میں کہا کہ ایرانی فوج نے امریکی اڈوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی جوابی ناکہ بندی جاری ہے۔
گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے آس پاس تجارتی ٹینکروں پر دو حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس کے بعد جہاز ’جزیرة ام الغنم‘ کے شمال مغرب میں تقریباً ایک ناٹیکل میل کے فاصلے پر لنگر انداز ہو کر رک گیا۔ دوسرا واقعہ یو کے ایم ٹی او 124-26 (ٹینکر) سے متعلق ہے۔ اس ٹینکر پر عمان کے خصب سے تقریباً 17 ناٹیکل میل مشرق میں آبنائے سے باہر نکلتے وقت تین نامعلوم پروجیکٹائل (ہتھیار/گولے) سے حملہ کیا گیا۔ ٹینکروں پر یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک بحری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایرانی دھمکیوں کے جواب میں امریکی فوج نے ایرانی ریڈار اور فضائی دفاعی نظام سمیت دیگر فوجی بنیادی ڈھانچے پر تازہ حملے کیے ہیں۔
صنعاء میں حوثی کے زیر کنٹرول وزارت خارجہ نے ایران پر امریکی حملوں کے حوالے سے تہران کے ساتھ یکجہتی کا بیان جاری کیا ہے۔ حوثی کے زیر کنٹرول سبا نیوز ایجنسی کے ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ امریکی حملوں سے ایران کا عزم کمزور نہیں ہوگا اور تہران کا ردعمل بین الاقوامی قانون کے تحت اس کا جائز حق ہے۔ وزارت نے امریکہ پر خطے کو کشیدگی کی جانب دھکیلنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس کے نتائج کے لیے واشنگٹن اور اس کی حمایت کرنے والے ذمہ دار ہیں۔ انہیں اس کی قیمت چکانی ہوگی۔
اردن نے کہا کہ ملک کے کئی حصوں پر ایرانی میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔ اردن کی فوج نے بدھ کی صبح کہا کہ اسے ’’ایرانی علاقے سے آنے والے میزائل حملے کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘ اردن کی فوج نے بتایا کہ اس نے 13 بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا، جن میں سے 10 کو روک لیا گیا جبکہ تین دور دراز علاقوں میں جا گرے۔ تاہم ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اردن پر ہونے والے حملے میں امریکی فوجی مارے گئے، لیکن ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد