
نئی دہلی، 2 ستمبر (ہ س)۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے مختلف ٹول پلازوں پر مبینہ فرضی ٹول وصولی اور رقم میں ہیرا پھیری سے متعلق منی لانڈرنگ کے معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کے روز اترپردیش، راجستھان، مہاراشٹر، جموں، مدھیہ پردیش، قومی راجدھانی خطے اور کولکاتا کے 14 ٹھکانوں پر چھاپہ مارا۔
ای ڈی کے مطابق، ایجنسی کے لکھنو علاقائی دفتر کی ٹیمیں انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے)، 2002 کی دفعہ 17 کے تحت یہ چھاپہ ماری کر رہی ہیں۔ یہ جانچ 22 جنوری 2025 کو درج ایف آئی آر نمبر 17 اور 19 مئی 2025 کو درج انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ (ای سی آئی آر) نمبرای سی آئی آر/ اے اے ایس زیڈ ایس او/ 04/ 2025 کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی۔ جانچ میں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے مختلف ٹول پلازوں پر سرکاری نظام سے ہٹ کر ٹول رسیدیں تیار کرنے اور ٹول سے حاصل شدہ رقم کو سرکاری کھاتہ جاتی نظام سے باہر منتقل کرنے کے لیے مبینہ طور پر غیر مجاز سافٹ ویئر ایپلیکیشنز کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔
جانچ ایجنسی کے مطابق، سافٹ ویئر کے استعمال سے تیار کی گئی غیر مجاز ٹول رسیدوں اور رقم کے مبینہ غبن کی تصدیق فارینسک جانچ اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا سے حاصل شدہ ریکارڈز سے بھی ہوئی ہے۔ جانچ میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر ای ڈی نے متعلقہ احاطوں پر تلاشی کی کارروائی کی ہے۔
چھاپہ ماری کا مقصد معاملے سے متعلق ڈیجیٹل آلات اور دستاویزی شواہد کو برآمد کرنا، مبینہ طور پر اس نظام سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی شناخت کرنا نیز جرائم کے ذریعے حاصل کی گئی رقم کا سراغ لگانا ہے۔ ایجنسی کی ٹیمیں تلاشی کے دوران ملنے والے الیکٹرانک آلات، دستاویزات اور دیگر ریکارڈز کی جانچ کر رہی ہیں۔ ای ڈی نے بتایا کہ معاملے میں مزید جانچ جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن