جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں حکومت ’کھیل‘ کر رہی ہے، حقیقی شرح نمو 2.6 فیصد ہے: جے رام رمیش
نئی دہلی، 2 ستمبر(ہ س)۔ کانگریس نے حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت اعداد و شمار کی ’بازی گری‘ کے ذریعے معیشت کی حقیقی تصویر کو بہتر دکھانے کی کوشش کر رہی ہ
جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں حکومت ’کھیل‘ کر رہی ہے، حقیقی شرح نمو 2.6 فیصد ہے: جے رام رمیش


نئی دہلی، 2 ستمبر(ہ س)۔ کانگریس نے حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت اعداد و شمار کی ’بازی گری‘ کے ذریعے معیشت کی حقیقی تصویر کو بہتر دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری (مواصلات) اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سابق مالیاتی سکریٹری سبھاش چندر گرگ کے ایک تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی جی ڈی پی نمو 7.8 فیصد کے بجائے تقریباً 2.6 فیصد ہے۔

جے رام رمیش نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ مودی حکومت اپنی ٹیم اور میڈیا کے ذریعے جتنا زیادہ ’فرضی جی ڈی پی نمو‘ کا ڈھول پیٹے گی، اتنی ہی اس کی حقیقت سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابق مالیاتی سکریٹری سبھاش گرگ نے حکومت کے جی ڈی پی کے دعوے پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں اور ان کے مطابق حقیقی اقتصادی نمو تقریباً 2.6 فیصد ہے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس چاہتی ہے کہ ملک کی معیشت حقیقی معنوں میں مضبوط ہو، لیکن مضبوط معیشت کا راستہ اعداد و شمار کو سجانے سے نہیں بلکہ زمینی حقیقت کو تسلیم کرنے سے نکلتا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پہلے معیشت کی حقیقی صورتحال کو تسلیم کیا جائے اور اس کے بعد اصلاحات کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت کو معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز(ایم ایس ایم ای) اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ملک میں مانگ اور لوگوں کی آمدنی بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت کو معاشی عدم مساوات کم کرنے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چند منتخب صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے حکومت کو ملک میں منصفانہ مسابقت کو یقینی بنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صرف تشہیر اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے جی ڈی پی کے اعداد و شمار کی تصویر بہتر دکھائی جا سکتی ہے، لیکن اس سے معیشت حقیقی طور پر مضبوط نہیں ہوتی۔

جے رام رمیش نے کہا کہ جس جی ڈی پی شرح نمو کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے عوام سے جشن منانے اور دیوالی کی طرح خوشیاں منانے کی اپیل کر رہے ہیں، اسی شرح نمو پر حکومت کے سابق مالیاتی سکریٹری سبھاش گرگ نے سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اعداد و شمار اور تشہیر کے ذریعے معیشت کی حقیقت کو زیادہ دیر تک نہیں چھپایا جا سکتا۔ معیشت کی مضبوطی کا اصل اندازہ روزگار، آمدنی، سرمایہ کاری، کھپت اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری سے ہوتا ہے۔حکومت کی جانب سے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے اعداد و شمار پیش کیے جانے کے بعد اس پر سیاسی بحث بھی تیز ہوگئی ہے۔ جہاں حکومت اسے ہندوستانی معیشت کی مضبوطی اور ترقی کی علامت قرار دے رہی ہے، وہیں اپوزیشن جماعتیں سرکاری اعداد و شمار کی تشریح اور ان کے طریقہ حساب پر سوال اٹھا رہی ہیں۔کانگریس کا کہنا ہے کہ معیشت کی حقیقی تصویر جاننے کے لیے صرف مجموعی جی ڈی پی نمو دیکھنا کافی نہیں بلکہ روزگار، فی کس آمدنی، نجی سرمایہ کاری، کھپت اور عام لوگوں کی معاشی حالت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ جے رام رمیش کے یہ بیانات کانگریس کے سیاسی موقف اور سابق مالیاتی سکریٹری سبھاش گرگ کے حوالے سے کیے گئے دعوے پر مبنی ہیں۔ 2.6 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو کا تخمینہ سرکاری جی ڈی پی کے اعداد و شمار نہیں بلکہ سبھاش گرگ کا تجزیہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande