
مرشدآباد، 19 ستمبر (ہ س)۔
مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کی ریجی نگر اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں ہفتہ کے روز ایک اہم اور غیر متوقع سیاسی پیش رفت سامنے آئی۔ سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے دھڑے ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ کے امیدوار ربیع الاسلام چودھری نے اپنی امیدواری واپس لینے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا ہے۔ ہفتہ کی دوپہر انہوں نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ وہ اپنا نامزدگی پرچہ واپس نہیں لے رہے ہیں اور پارٹی کے نئے انتخابی نشان کے ساتھ انتخابی میدان میں اتریں گے۔
اپنے فیصلے میں اچانک تبدیلی کے بارے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ربیع الاسلام چودھری نے کہا کہ انہوں نے پہلے موجودہ حالات اور نئے انتخابی نشان کو دیکھتے ہوئے انتخابی میدان سے دستبردار ہونے کا ارادہ کیا تھا، لیکن اب انہوں نے اسی نئے انتخابی نشان کے ساتھ عوام کی عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ الیکشن کیسے لڑا جاتا ہے اور وہ اس سے قبل کئی بار انتخابات جیت چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے کارکنان پوری حکمت عملی کو سمجھ چکے ہیں اور ہفتہ سے ہی ان کی انتخابی مہم زور و شور سے شروع ہو رہی ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما بھی علاقے میں انتخابی مہم چلانے پہنچیں گے۔ ربیع الاسلام نے واضح کیا کہ ممتا بنرجی کی جانب سے جو بھی ہدایات دی جائیں گی، وہ اسی کے مطابق آگے بڑھیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ آئندہ 6 اکتوبر کو نندی گرام اور ریجی نگر، دونوں اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پارٹی کا پرانا نام اور انتخابی نشان منجمد کیے جانے کے بعد ممتا دھڑے کو عبوری انتظام کے تحت ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور ’فٹ بال کھلاڑی‘ کا انتخابی نشان دیا گیا ہے۔
جمعہ کو نندی گرام نشست سے ممتا گروپ کی امیدوار سنچیت پردھان کے نامزدگی واپس لینے کے بعد ریجی نگر میں بھی ایسے ہی حالات پیدا ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔ ہفتہ کی صبح تک ربیع الاسلام کا بھی یہی کہنا تھا کہ اتنے کم وقت میں ووٹروں تک نیا انتخابی نشان پہنچانا مشکل ہے اور کارکنوں کے مشورے پر وہ نام واپس لے رہے ہیں، لیکن دوپہر ہوتے ہوتے انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔
ربیع الاسلام کے اس حکمت عملی پر مبنی قدم پر باغی دھڑے ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ کے رہنما اور رکن اسمبلی سندیپن ساہا نے سخت طنز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہاں کس طرح کا سیاسی تماشا چل رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کا امیدوار اپنے انتخابی نشان ’لفافہ‘ کے ساتھ پوری طاقت سے الیکشن لڑے گا۔ ربیع الاسلام کے اس یو ٹرن کے بعد ریجی نگر کا ضمنی انتخاب اب سہ رخی مقابلے میں تبدیل ہو گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ