

۔سیوا سنکلپ ابھیان کے تحت پہلی بار کرانتی دھرا میں ایئر شو منعقد ، نو ہاک جیٹ طیاروں کی شاندار فضائی کرتب بازی نے ہزاروں ناظرین کو مسحور کر دیا
۔ترنگے کی لکیروں سے سجا آسمان، میرٹھ کے تین جانبازوں نے فضائیہ کے مظاہرے میں شہر کا وقار بڑھایا
میرٹھ، 19 ستمبر (ہ س)۔ ایک ساتھ نو لڑاکا طیارے، دیکھتے ہی دیکھتے بدلتی فارمیشن، کبھی زمین کو چھوتی محسوس ہونے والی پرواز تو کبھی آسمان میں الٹی کلابازی۔ پھر دو طیارے ایک دوسرے کی جانب بڑھے اور پلک جھپکتے ہی ایک دوسرے کو کراس کرتے ہوئے نکل گئے۔ ہفتہ کو محی الدین پور واقع نیو انٹیگریٹڈ ٹاؤن شپ میں کچھ ایسا ہی دلکش منظر دیکھنے کو ملا۔
بھارتی فضائیہ کی سوریہ کرن ایئروبیٹک ٹیم نے پہلی بار میرٹھ کے آسمان کو اپنے فضائی مظاہرے کا میدان بنایا تو ہزاروں لوگوں کی نظریں آسمان پر جم گئیں۔ ہاک ایم کے-132 طیاروں کی گھن گرج کے درمیان آسمان میں زعفرانی، سفید اور سبز رنگ کی لکیریں نمودار ہوئیں اور ’وندے ماترم‘ کے نعروں سے پورا ماحول حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوگیا۔ مرکزی اور ریاستی یوگی حکومت کی پہل پر سیوا سنکلپ ابھیان کے تحت منعقد اس تاریخی ایئر شو نے بچوں سے لے کر بزرگوں تک سبھی کو مسحور کر دیا۔
ہنڈن ایئربیس سے پرواز بھرنے والے نو ہاک جیٹ طیارے صبح تقریباً 10 بج کر 25 منٹ پر میرٹھ کے آسمان پر پہنچے۔ میدان میں موجود ناظرین نے تالیوں، ’جے ہند‘ اور ’وندے ماترم‘ کے نعروں کے ساتھ طیاروں کا استقبال کیا۔ اس سے قبل صبح ساڑھے سات بجے ہی نیو انٹیگریٹڈ ٹاو¿ن شپ میں لوگوں کی آمد شروع ہوگئی تھی۔ ایک درجن سے زائد اسکولوں کے طلبہ، این سی سی کیڈٹس اور این ایس ایس رضاکار اس سنسنی خیز مظاہرے کا مشاہدہ کرنے پہنچے۔ خاندانوں کے ساتھ ڈاکٹروں، تاجروں اور صنعت کاروں نے بھی اس تاریخی مظاہرے سے لطف اٹھایا۔
پلک جھپکتے بدلتی رہیں فارمیشنز
سوریہ کرن کے طیاروں نے آسمان میں ایسا شاندار تال میل پیش کیا کہ ہر کرتب کے ساتھ ناظرین کی تالیوں کی گونج بڑھتی گئی۔ نو طیاروں نے پہلے ’وی‘ شکل میں پرواز کی، پھر مختلف سمتوں میں بکھرتے ہوئے اگلے ہی لمحے دوبارہ انتہائی درست فارمیشن بنا لی۔ لوپ، بیرل رول، الٹی پرواز اور ’ڈی این اے‘ مانوور نے سنسنی میں مزید اضافہ کردیا۔
تقریباً 100 سے 150 فٹ کی بلندی پر طیاروں کی انتہائی درست پرواز دیکھ کر لوگ دم بخود رہ گئے۔ دو جیٹ طیارے ایک دوسرے کی جانب بڑھے اور عین وقت پر ایک دوسرے کو کراس کرتے ہوئے نکل گئے تو پورا میدان تالیوں سے گونج اٹھا۔ طیاروں کے پیچھے زعفرانی، سفید اور سبز رنگ کی لکیروں نے آسمان کو ترنگے کے رنگوں سے بھر دیا۔ ان اسموک پوڈز کو ناسک میں واقع فضائیہ کے بیس ریپئر ڈپو میں تیار کیا گیا ہے۔ فضائی کرتب کے دوران ترنگے کے رنگوں کی یہ چھٹا بچوں کے لیے خاص کشش کا مرکز رہی۔
ترنگے کے نظارے کے ساتھ میرٹھ کے تین جانبازوں نے بڑھایا شہر کا وقار
میرٹھ میں منعقد اس ایئر شو کا شہر سے براہ راست تعلق بھی رہا۔ سوریہ کرن ایئروبیٹک ٹیم میں میرٹھ کے تین اسکواڈرن لیڈرز شامل ہیں۔ اسکواڈرن لیڈر امن گوئل اور راہل سنگھ نے آسمان میں ہاک جیٹ اڑا کر کرتب دکھائے، جبکہ اسکواڈرن لیڈر شرد گوئل نے زمین سے پورے مظاہرے کے انتظام کی ذمہ داری سنبھالی۔
اپنے شہر کے تین جانبازوں کو اس تاریخی پروگرام کا حصہ دیکھ کر ناظرین کا جوش مزید بڑھ گیا۔ یوگی حکومت کے سیوا سنکلپ ابھیان کے تحت منعقد اس پروگرام نے تفریح سے آگے بڑھ کر نوجوانوں کو ملک کی خدمت اور نظم و ضبط کا پیغام بھی دیا۔ اسکولی بچوں نے بھارتی فضائیہ کی صلاحیت، بہادری اور تکنیکی مہارت کو براہ راست دیکھا۔ ایسے پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں میں ملک کے تئیں ذمہ داری اور دفاعی خدمات میں دلچسپی بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سال 1996 میں قائم ہوئی سوریا کرن، 52ویں اسکواڈرن کا حصہ
سوریہ کرن بھارتی فضائیہ کی ایئروبیٹک مظاہرہ ٹیم ہے اور 52ویں اسکواڈرن کا حصہ ہے۔ اس کا قیام 1996 میں عمل میں آیا تھا۔ ٹیم میں 13 پائلٹ ہوتے ہیں، جبکہ مظاہرے کے دوران نو پائلٹ بیک وقت پرواز کرتے ہیں۔ لڑاکا طیارے اڑانے کا تجربہ رکھنے والے پائلٹوں کا انتخاب ٹیم کے لیے کیا جاتا ہے۔
ملک کے مختلف حصوں میں اپنی فضائی کرتب بازی سے ناظرین کو محظوظ کر چکی سوریہ کرن کا میرٹھ میں یہ پہلا مظاہرہ تھا۔ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر لکشمی کانت واجپئی کے مطابق میرٹھ میں ایئر شو کے انعقاد کی تجویز 13 مئی کو بھیجی گئی تھی اور 8 ستمبر کو اسے باضابطہ منظوری ملی۔
طلبہ میں جوش، ہر لمحہ موبائل کیمرے میں محفوظ کرنے کی جستجو
جیسے ہی سوریہ کرن کے طیاروں نے آسمان میں فارمیشن بدلی، اسکولی بچوں میں جوش کی لہر دوڑ گئی۔ کوئی ہاتھ ہلا کر پائلٹوں کا استقبال کر رہا تھا تو کوئی موبائل کیمرہ آسمان کی جانب کیے ہر کرتب کو ریکارڈ کرنے میں مصروف تھا۔
ایئر شو دیکھنے آئے انوبھو نے کہا کہ انہوں نے پہلی بار لڑاکا طیاروں کو اتنے قریب سے پرواز کرتے دیکھا۔ جب دو طیارے ایک دوسرے کی جانب آئے تو واقعی سانسیں تھم گئی تھیں۔ اب وہ بھی فضائیہ میں کریئر بنانا چاہتے ہیں۔
طالبہ اننیا نے کہا کہ ترنگے کے رنگوں والی لکیروں کے درمیان طیاروں کی پرواز دیکھ کر بہت فخر محسوس ہوا۔ یہ دن اسکول میں پڑھے گئے کسی بھی سبق سے زیادہ یادگار رہے گا۔ نوجوانوں میں ہر سنسنی خیز لمحے کو کیمرے میں محفوظ کرنے کی دوڑ لگی رہی۔
ٹریفک، پارکنگ اور پینے کے پانی سمیت تمام انتظامات پختہ
پروگرام میں بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے ٹریفک کو رواں رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے۔ گاڑیوں کے لیے پارکنگ کا انتظام کیا گیا، جبکہ ناظرین کی سہولت کے لیے پینے کے پانی کا بھی بندوبست کیا گیا۔
سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے محی الدین پور کے آس پاس 10 ناٹیکل میل، یعنی تقریباً 18.5 کلومیٹر کے علاقے کو 21 ستمبر تک عارضی ریڈ اور نو فلائنگ زون قرار دیا گیا ہے۔ اس علاقے میں ڈرون، ریموٹ سے چلنے والے طیارے، ہاٹ ایئر بیلون اور دیگر یو اے وی اڑانے پر پابندی رہے گی۔
ایئر شو کے دوران راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر لکشمی کانت واجپئی، ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر وی کے سنگھ، سی ڈی او نپور گوئل، اے ڈی ایم سٹی، میونسپل کمشنر سمیت تمام محکموں کے اعلیٰ افسران اور ملازمین موجود رہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد